خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 263

خطبات طاہر جلد ۶ 263 خطبہ جمعہ ۷ اسر ا پریل ۱۹۸۷ء وجہ سے ہماری زندگی وہاں اجیرن ہوگئی تھی تو ایسے بھی آپ میں سے ہوں گے جو یہ بات درست نہیں کہتے۔تکلیف تو تھی لیکن تکلیف کی وجہ سے ہر شخص نے ہجرت نہیں کی بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے محض اقتصادی فوائد کی خاطر ہجرت کی ہوگی لیکن عمومی طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے، فردا فردا کسی ایک شخص کے متعلق یہ کہنا جائز نہیں کہ فلاں شخص نے یہ حرکت کی ہے لیکن جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے اس لئے ہجرت کی وہ خود جانتے ہیں۔ان کے دل گواہ ہیں اور ان سے زیادہ اس صورتحال سے کوئی باخبر نہیں ہے۔اس قسم کی ہجرت کرنے والوں میں ایسے بھی ہیں جو وہاں تقویٰ کے نسبتا بہتر مقام پر فائز تھے۔عبادتیں بھی کرتے تھے ، جہاں تک توفیق ملے نماز با جماعت بھی ادا کرتے تھے، نظام جماعت سے بھی تعلق رکھتے تھے اور مالی اور دیگر قربانیوں میں جہاں تک تو فیق ملتی تھی حصہ لیتے تھے یا کم سے کم حصہ لینے کی حسرتیں ضرور رکھتے تھے۔بہت سے ایسے تھے جو غربت کی وجہ سے مختلف قسم کی مالی قربانیوں میں حصہ نہیں لے سکتے تھے مگر دل میں تمنا ضرور تھی اور کچھ ایسے بھی ہیں جو وہاں جماعتی نقطہ نگاہ سے اچھی زندگی نہیں گزار رہے تھے۔نہ تو نظام جماعت کا فرد تھے ، نہ عبادت کے لحاظ سے ان کی صورتحال تسلی بخش تھی ، نہ ان کو دین سے کوئی طبعی ایسی محبت تھی ایسے بھی تھے جو ورثہ میں احمدیت کو پانے والے تھے لیکن ان کا اٹھنا بیٹھنا ایسے لوگوں میں تھا ایسی غلط سوسائٹی میں تھا کہ کئی گندی عادتیں وہ ساتھ لے کر آئے۔اب کئی قسم کے لوگ یہاں اکٹھے ہو گئے نیت کے لحاظ سے بھی اور عملی حالت کے لحاظ سے بھی لیکن جرمنی میں پہنچنے کے بعد جب آپ کو ایک غیر عمومی نظر سے دیکھتا ہے تو اس کو اس پس منظر کی تفریق کا علم نہیں ، اس کو نہیں پتا کہ کون کس نیت سے وہاں سے نکلا تھا کس حد تک اس میں خدا کا حصہ تھا، کس حد تک اس میں نفس کا حصہ تھا۔وہ نہیں جانتا کہ کس معیار کا احمدی پاکستان سے چلا تھا، اعلیٰ اخلاقی قدریں لے کر وہاں سے نکلا تھا یا اخلاقی قدروں سے محروم خالی ہاتھ وہاں سے نکلا تھا۔ایسا تھا جو دنیا کے لحاظ سے تو محروم تھا لیکن دین کے لحاظ سے نہیں تھا یا ایسا تھا کہ دونوں لحاظ سے اس کے دامن میں کچھ بھی نہیں تھا۔اس لئے وہ عمومی طور پر جب آپ کا جائزہ لیتا ہے تو آپ کو جماعت کا نمائندہ اور جماعت کا سفیر سمجھتا ہے اور یہاں آنے کے بعد آپ میں سے کچھ ایسے ہیں جو بد قسمتی سے چونکہ وہیں سے کمزوریاں رکھتے تھے یہاں آکر نئی کمزوریوں کا بھی شکار ہو گئے۔بہت سی ایسی برائیوں