خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 264
خطبات طاہر جلد ۶ 264 خطبہ جمعہ ۷ اراپریل ۱۹۸۷ء نے کھلے ہاتھوں ان کا استقبال کیا جن کے تصور سے بھی وہاں وہ خوف کھاتے تھے اور وہم بھی نہیں کر سکتے تھے کہ سوسائٹی میں کھلم کھلا میں ایسی حرکت کر سکوں گا لیکن یہاں کی سوسائٹی نے اپنے دروازے کھولے ان کا استقبال کیا، برائیوں نے زیادہ استقبال کیا اور خوبیوں نے کم استقبال کیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لوگ جو کمزوریاں لے کے چلے تھے یہاں آنے کے بعد اور بھی زیادہ کمزوریوں کا شکار ہو گئے اور چونکہ داغ زیادہ دکھائی دیتا ہے اور بے داغ حصہ کم دکھائی دیتا ہے۔ایک سفید چادر پر اگر داغ پڑا ہوتو وہ بہت نظر کو برا لگتا ہے فوراً پہلے داغ پر نظر جاتی ہے۔بعض لوگ جو نوکروں سے کام لیتے ہیں صفائیوں کا خواہ انڈسٹریل ہو یا دوکانوں کا یا گھروں کا وہ جب صفائی کے بعد گھر میں داخل ہوتے ہیں یا دکان میں داخل ہوتے ہیں تو چاروں طرف نظر ڈالتے ہیں اور صفائی ان کو خوشی نہیں دیتی لیکن جو گندہ داغ ہے وہ جہاں بھی پڑا ہو و ہیں نظر ان کو پکڑ لیتی ہے کہتے ہیں اچھا اس کا نام تم نے صفائی رکھا ہوا ہے۔یہ تو گندہ داغ رہ گیا ہے تم کام چور ہو، ہم نکتے ہو اور کئی قسم کی سخت زبان اس کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور اس کی صفائی کو بھول جاتے ہیں۔توایسی جماعت جو دنیا کے سامنے جماعت کے بانی نے تقویٰ کے اعلیٰ معیار کے طور پر، نمونہ کے طور پر پیش کی ہو جس کے متعلق اس نے دعوی یہ کیا ہو کہ میں تمہی میں سے نسبتا کمزور اور ادنیٰ حالت میں لوگوں کو پکڑتا ہوں اور اللہ کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ ان میں ایک پاک تغیر پیدا کرتا چلا جا رہا ہوں۔ایک نئی روحانی پرندوں کی جماعت تمہاری مردہ مٹی سے پیدا کر رہا ہوں۔یہ دعوی کیا ہو تو دنیا کی نگاہ اور بھی زیادہ برائیوں کی تلاش میں مستعد ہو جاتی ہے اور بہت نمایاں طور پر اس کو گندے داغ دکھائی دینے لگتے ہیں اور اگر یہ داغ زیادہ ہوں اور بدقسمتی سے ایسے لوگ زیادہ آئے ہوں جو کمزوریاں لے کر باہر نکلے ہیں تو دیکھنے والا بالعموم باقی سب کو نظر انداز کر کے انہی کمزور لوگوں پر نظر رکھے گا اور جماعت احمدیہ کے متعلق جو بھی تصور باندھے گا ان کو پیش نظر رکھ کر باندھے گا۔اس لحاظ سے آپ پر بہت ہی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور پھر جب آپ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ آپ تبلیغ کریں آپ انقلاب عظیم برپا کر دیں ، اس ملک کی حالت بدل دیں اور اس ملک کا شکریہ اس طرح ادا کریں کہ انہوں نے آپ کو اقتصادی اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالا ہے آپ ان کو روحانی اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالیں اور هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ