خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 262 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 262

خطبات طاہر جلد ۶ 262 خطبہ جمعہ ۷ ا ر ا پریل ۱۹۸۷ء اس سلسلے میں چند باتیں جو میں آپ کے سامنے خصوصیت سے رکھنی چاہتا ہوں یہ ہیں کہ بہت سے احمدی ایسے نوجوان اور بڑے اور چھوٹے بھی ہیں، مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی جنہوں نے جرمنی کا سفر اختیار کیا اور اسی طرح دیگر ممالک کا سفر اختیار کیا۔ان کے سفر کی بنایا ان کے سفر کی وجہ مختلف تھی اور مختلف ہے، ہمیشہ مختلف رہے گی کیونکہ ہر انسان بعینہ ایک وجہ سے سفر نہیں کرتا۔کچھ ایسے ہیں جن کو جذباتی طور پر شدید تکلیف پہنچی ایک ایسے ملک میں بستے ہوئے جہاں ان کے بنیادی حقوق پہ پہرے بٹھا دیئے گئے ، ہر قسم کے مذہبی حقوق ان کے تلف کر لئے گئے اور ان کے بزرگوں کو جن سے وہ بڑی محبت اور عقیدت رکھتے تھے ان کو مسلسل گالیاں دی گئی اور دی جاتی رہیں اور اب بھی دی جاتی ہیں اور ادھر سے ان کو زبان کھولنے کی اجازت نہیں۔تو نوجوان بسا اوقات اس صورتحال کے نتیجے میں یا تو اپنا ضبط کھو بیٹھتے ہیں اور کچھ ایسی حرکت کر گزرتے ہیں جو ان کے لئے بھی اچھی نہیں اور جماعت کے لئے بھی اچھی نہیں اور بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر ایسا نہ کریں اور ضبط رکھیں تو ایسے نوجوان نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔تو کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے اس دباؤ کے نتیجے میں ہجرت کی۔کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے واقعہ جسمانی طور پر بھی تکلیفیں اٹھا ئیں، قید و بند کی صعوبتیں دیکھیں ، گالیاں کھا ئیں، پتھر کھائے ، گلیوں میں گھسیٹے گئے ، کلمہ پڑھنے کے جرم میں ان کو کئی قسم کی اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا اور اس لئے وہ اس لحاظ سے بھی ہجرت کے اہل ٹھہرے کہ باہر کی دنیا جن چیزوں کو دیکھتی ہے وہ ان کو دکھا سکتے تھے کہ ہاں دیکھو! اگر جسمانی اذیت ہی تمہارے نزدیک ہجرت کا حقیقی محرک بننی چاہئے تو ہم جسمانی اذیت کے نتیجے میں باہر آئے ہیں لیکن یہ مطلب نہیں کہ ان کو روحانی اذیت نہیں تھی یہ دونوں چیزیں اکٹھی تھیں۔ایک طبقہ وہ بھی ہے ، وہ بھی ہوگا اور ویسے میں امید رکھتا ہوں کہ بہت تھوڑا ہوگا کہ جنہوں نے محض اس صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہا ہوگا۔انہوں نے سوچا ہوگا کہ اس ہجرت کے طوفان میں جب لوگ جا رہے ہیں ہم بھی جائیں اور اپنی زندگی کی کیفیت بدلیں ، اپنے اقتصادی حالات بدلیں ، ہمارے گھر والے غریب ہیں مشکلات سے گزارا کر رہے ہیں تو باہر نکلیں اور ان کے لئے بہتر کمائی کی صورت پیدا کریں۔جذ بہ تو یہ بھی نیک ہے لیکن اس نیکی کے اندر ایک تھوڑی سی خرابی کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے۔جب وہ باہر جا کر کہتے ہیں کہ ہم اس وجہ سے نکلے تھے کہ جماعت احمدیہ کے ممبر ہونے کی