خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 170

خطبات طاہر جلد ۶ 170 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء کے ذریعے کے ذرے ذرے میں تو رچ گیا ہے۔من ذكر وجهک یا حديقة بهجتی لم اخل في لحظ ولا في آن اے میری مسرت کے باغ تیرے چہرے کے ذکر کے ساتھ من ذکر وجھک لم اخــل فـي لـحـظ ولا في ان کسی حالت میں اور کسی لمحہ بھی میں غافل نہیں رہتا۔ہر وقت تیرا خیال ہے جو میرے دل پہ چھایا ہوا ہے۔جسمى يطير اليك من شوق علا یالیت كانت قوة الطيران ( القصائد الاحمدیہ صفحہ : ) میرا جسم ایک غالب شوق کی وجہ سے ہر آن تیری طرف اڑتا چلا جارہا ہے۔وہی شعر جس کا پہلے فارسی میں بھی اس مضمون کو بیان کر دیا گیا ہے۔جسمى يطير الیک من شوق علا یالیت كانت قوة الطيران اے کاش ! مجھ میں اڑنے کی طاقت ہوتی یعنی میرا جسم بھی اڑ سکتا اور میں تیرے حضور حاضر ہو جاتا۔پھر فرمایا:۔انی اموت ولا تموت محبتی میں تو ضرور مر جاؤں گا لیکن میری محبت محمد مصطفی حلیے سے جو مجھے عشق ہے وہ کبھی نہیں مرے گی۔انی اموت ولا تموت محبتی یدری بذکرک فی التراب ندائی (القصائد الاحمد به صفحه : ۲۰۴) اے محمد ! تیرے ذکر کے بعد میری مٹی سے بھی تیری محبت کی آواز بلند ہوگی۔آج دنیا کے کروڑوں احمدی گواہ ہیں کہ خدا کی قسم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محمد مصطفی ﷺ کے ساتھ محبت کبھی نہیں مرے گی۔آپ مر گئے دنیا کے لحاظ سے اور ہم مر جائیں گے اور نسلاً بعد نسل