خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 159

خطبات طاہر جلد ۶ 159 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء سامنے پڑا ہوا ہے مسکراتے رہے حتی کے میں نے اس بات پر بہت ہی زور دیا جتنا میں دے سکتا تھا۔حضور نے فرمایا اے عمر! میرے سامنے سے ہٹ جاؤ مجھے اختیار دیا گیا ہے اس لئے میں نے اختیار کو استعمال کیا ہے مجھے کہا گیا ہے:۔اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرُ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ (التوبه: ۸۰) مجھے کہا گیا ہے تو ان کے لئے چاہے بخشش مانگ چاہے بخشش نہ مانگ اِنْ تَسْتَغْفِرُ لَهُمُ سَبْعِينَ مَرَّةً اگر تو ستر مرتبہ بھی ان کے لئے بخشش مانگے گا فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمُ الله انہیں معاف نہیں فرمائے گا۔اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ اگر میں اس کے لئے ستر سے زائد مرتبہ استغفار کروں تو اس بخش دیا جائے گا تو میں ضرور ستر سے زائد مرتبہ استغفار کروں گا۔صلى الله یہ ہے حضرت محمد مصطفی ، روح اچھلتی ہے آپ کے عشق میں۔ایسا کامل حسن ہے اخلاق کو ایسا درجہ کمال تک پہنچایا ہے کہ اس کے اوپر اخلاق کا تصور نہیں ہوسکتا اور یہ ان کا حال ہے یہ ان لوگوں کے متعلق آنحضرت ﷺ کا اسوہ ہے جن کے متعلق خدا نے فرمایا ہے کہ منافق ہے اس بات کو بھولے نہیں اور یہ خود ساختہ اپنے منافقوں کے متعلق یہ رویہ اختیار کر رہے ہیں اس کو بار باراب یہاں بتانے کی ضرورت نہیں آپ جانتے ہیں ساری دنیا جانتی ہے اب تو۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی نماز پڑھائی اور اس کی میت کے ساتھ گئے حتی کے اس کی قبر کے پاس کھڑے رہے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوئے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ مجھے اپنی جرات پر بہت تعجب ہوا جو رسول اللہ ﷺ کے سامنے میں نے کی اور اللہ اور رسول زیادہ علم رکھتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے آخری وقت تک پچھتاتے رہے ہیں۔جب یہ روایت بیان کی ہے تو اس وقت تک شرمندہ اور پچھتاتے رہے ہیں کہ عمر ! تجھے ہوا کیا تھا، اللہ اور رسول زیادہ جانتے ہیں اسی میں سب حکایت ، سب بات مکمل ہو جاتی ہے۔تمہیں جرات کیسے ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کو یاد دلا رہے ہو کہ قرآن میں یہ اترا اور اس نے یہ کہا اور اس نے یہ کہا۔جس پر قرآن نازل ہو رہا تھا وہ زیادہ جانتا تھا کہ خدا تعالیٰ کا کیا مفہوم ہے اور اس کے نتیجے میں مجھے کیا کرنا چاہئے۔