خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 160 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 160

خطبات طاہر جلد ۶ 160 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ اس واقعہ کو ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ یہ دو آیتیں نازل ہوئی۔وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِم اِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَمَا تُوْا وَهُمْ فَسِقُوْنَ (التوبہ: ۸۴) کہ ان میں سے کسی ایک کی قبر پر جو مر جائے ان منافقین میں سے کبھی نماز نہیں پڑھنی تو نے کبھی ان کا جنازہ نہیں پڑھنا۔وَلَا تَقُم عَلى قَبْرِہ اور نہ کبھی ان کی قبر کے پاس جا کے کھڑے ہونا ہے۔اِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور رسول کا کفر کیا ہے۔وَمَا تُوْا وَهُمْ فَسِقُونَ اور مر گئے اور وہ فاسق تھے یعنی وہی خبر جو قرآن کریم نے دی تھی کہ فاسقوں کے طور پر رہیں گے، فاسقوں کے طور پر ہی مریں گے وہ خبر ان کے متعلق پوری ہو چکی ہے۔اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات تک کی پھر منافق کی نماز نہیں پڑھائی۔اس سے دو اور بڑے دلچسپ استنباط ہوتے ہیں۔اول یہ کہ خدا تعالیٰ کو تو علم تھا کہ آنحضرت ﷺ نے اس کی نماز پڑھنی ہی پڑھنی ہے جب تک میں روکوں گا نہیں۔تو یہ آیتیں پہلے کیوں نہ نازل فرما دیں؟ وہ تو مستقبل کا واقف ہے۔یہ آیتیں پہلے نازل نہ فرمانا نعوذ بالله بھول نہیں تھی یوں بیان کرتے ہیں بعض روایت کرنے والے گویا کہ اللہ تعالیٰ کو پتا لگا اوہو! یہ تو نہیں رکیں گے اس طرح پڑھنے سے۔خاص حکم دوں تو پھر رکیں گے۔ہر گز یہ مقصد نہیں ہے۔حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ایک اسوہ حسنہ کا ایک ایسا عظیم الشان پہلودنیا کی نظر سے اوجھل رہ جاتا اگر یہ دو آیتیں پہلے نازل ہو جاتیں۔لوگ کہہ سکتے تھے کہ دشمنوں کو معاف کرنے پہ آمادہ تھے شدید منافقین، پختہ منافقین جو انتہائی بد زبانی کرنے والے تھے ان کا بھی جنازہ آپ پڑھ لیتے اگر خدا نہ روکتا۔یہ کہنے کی باتیں ہوتی صرف لیکن اللہ تعالیٰ نے حکمت کاملہ کے تابع کچھ تاخیر کر دی اس واضح حکم دینے میں تاکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے دل کی حالت لوگوں کو پتا لگ جائے ، ہمیشہ کے لئے دنیا کے سامنے ایک نمونہ قائم ہو جائے کہ اس طرح محمدی حسن اپنے دشمنوں کے حق میں جلوہ دکھاتا ہے۔دوسری بات یہ کہ وہ معلوم لوگ تھے، معروف لوگ تھے وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا صاف پتا چلتا ہے کہ وہ سارے لوگ سوسائٹی میں معروف تھے اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ