خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 129

خطبات طاہر جلد ۶ 129 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء پاکستان کے جرائم کی فہرستیں۔ادھر ان کے جرائم کی فہرستیں بڑھ رہی ہیں ادھر ہمارے جرائم کی فہرستیں بڑھ رہی ہیں۔یہ غیر مسلم امہ کے جرائم ہیں اور وہ مسلمانوں کے جرائم ہیں جو میں نے پہلے بتائے۔یہ جماعت احمدیہ کے اوپر جو چاہیں کریں جتنا چاہیں زور لگالیں پرانی تاریخیں جو خدا تعالیٰ دہرا رہا ہے یہ ضرور د ہرائی جائیں گی اور اپنے انجام تک پہنچیں گی اور کوئی نہیں ہے جوان تاریخوں کا رخ بدل سکے۔حضرت بلال کی تاریخ بھی آپ دیکھ لیں پاکستان کی گلیوں میں دہرائی جارہی ہے کہ نہیں جارہی ؟ لیکن آخر وہی لوگ جو بلال پر ظلم کرتے نہیں تھکا کرتے تھے، ان کے پھر دل ایسے پلیٹے اور خدا تعالیٰ نے بلال کی شان اس طرح ظاہر فرمائی کہ وہی لوگ بلال کی جوتیوں کی خاک کہلانے میں بھی عزت محسوس کرنے لگے۔سید نابلال کہہ کہہ کر عظیم صحابہ نے ان کی عزت افزائی کی اور فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے یہ اعلان فرما دیا کہ آج اگر کوئی جان کی پناہ چاہتا ہے تو ایک بلال کا جھنڈا بھی وہ جھنڈا ہے جس کے نیچے جو بھی آئے گا وہ آج میری معافی کا حقدار بن جائے گا (سیرۃ الحلبیہ جلد ۳ صفحہ : ۹۷)۔کتنا عظیم الشان وہ وجود تھا جس نے حضرت محمد مصطفی امیہ کی خاک سے ثریا سے بلند تر عظمتیں حاصل کر لیں اور آج آپ اس دور میں سے گزر رہے ہیں اور کھلم کھلا قدم بہ قدم بلال کے نقش پا پر آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور ایک بلال کے ہزار ہا بلال پیدا ہور ہے ہیں۔ایسی برکت ملی ہے بلالی دور کو اور یہ چودہ سو سال کے بعد واقعہ رونما ہوا ہے، کسی انسان کی طاقت میں تھا یہ بھلا کہ خود اپنے زور سے اپنی قوت سے اس تاریخ کو دہرا دیتا؟ تو جہاں بلال کی قربانیوں کی تاریخ دہرائی جارہی ہے وہاں بلال کے انعام کی تاریخ بھی ضرور ہرائی جائے گی۔آپ ایک لمحہ کے لئے بھی مایوس نہ ہوں۔خدا نے یہ ساری عظمتیں اور ساری رفعتیں اور ساری عزتیں آپ کے لئے رکھی ہیں۔آپ لا زما بالآخر غالب آئیں گے اور کوئی نہیں ہے جو اس غلبے کو تبدیل کر سکے اس یقین کے ساتھ آگے بڑھیں۔جہاں تک دشمن کا تعلق ہے تو دشمن کا تو مقدر یہی ہے کہ یہ بولتا رہتا ہے، یہ پیچھے پڑا رہتا ہے۔آپ ان کی طرف توجہ دیں تب بھی یہ آپ کو گالیاں دیتے رہیں گے ، توجہ نہ دیں تب بھی گالیاں دیتے رہیں گے۔اس لئے اپنے کام سے کیوں غافل ہوتے ہیں۔آپ تبلیغ کریں تب بھی آپ پہ جرم لگائیں گے تبلیغ نہ کریں تب بھی یہ آپ پر جرم لگائیں گے انہوں نے چھوڑ نا تو آپ کو