خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 130
خطبات طاہر جلد ۶ 130 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء ہے نہیں۔اس لئے اپنے نیک کاموں سے ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہ ہوں اور ترک کچھ نہ کریں۔وہ لوگ جو اس خیال سے پاکستان میں تبلیغ چھوڑ چکے ہیں کہ اب تبلیغ بند ہوگئی ہے اور بڑی سختی ہو رہی ہے اور ہم تبلیغ کریں گے تو ہمیں یہ یہ مصیبتیں پڑیں گی یہ ان کا واہمہ ہے۔جو تبلیغ نہیں کریں گے ان پر بھی تبلیغ کا الزام لگنا ہی لگتا ہے کیونکہ مقابل پر جھوٹے ہیں۔اس لئے اگر تبلیغ نہ کر کے آپ قید میں جائیں گے تو یہ تو گناہ بے لذت ہے۔کوئی فائدہ ہی نہیں۔اس سزا کا کوئی اجر آپ کو نہیں ملے گا پھر جب جانا ہی ہے تو پھر تبلیغ کر کے قید میں جائیں تا کہ خدا کے پیار کا مورد بنیں، اللہ تعالیٰ آپ کی ان ادنی سی قربانیوں کو اپنی رحمتوں اور پیار سے نوازے۔اجر تو پائیں اس قربانی کا۔اس بات کو یا درکھیں بہر حال کہ جو چاہیں آپ کریں نرمی اختیار کریں بختی اختیار کریں، اعراض کریں یا ان کے مقابل پر آپ کھڑے ہوں جو چاہیں آپ کریں انہوں نے آپ کا پیچھا نہیں چھوڑ نا اور پیچھا کرنے میں یہ فخر کرتے ہیں اور فخر کرتے چلے جائیں گے کیونکہ ان کے مقدر میں یہ بات لکھی ہوئی ہے، خدا تعالیٰ نے پہلے سے ہی بیان فرما دیا ہے انہوں نے ضرور آپ کا پیچھا کرنا ہے۔یہ تو فخر سے اعلان کرتے ہیں کہ ہم تعاقب کر رہے ہیں اور تعاقب کرتے کرتے سانس چڑھ گئے ہیں ہانپنے لگ گئے ہیں۔جہاں جہاں احمدیت زور دکھائے گی ہم اس کے تعاقب میں پہنچیں گے، ہم اس کے پیچھے دوڑیں گے اور ہم کوشش کریں گے کہ ان کی ترقی بند ہو جائے اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ خدمت دین ہے۔قرآن کریم نے اس مضمون کو ایک اور طرح سے بیان فرمایا ہے، فرماتا ہے:۔وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلَكِنَّةَ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوىهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلُ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوا بِايْتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (الاعراف: ۱۷۷) کہ اگر ہم چاہتے تو یہ جو نعمت نبوت عطا فرمائی ہے اس کے ذریعہ ہم اس شخص کا درجہ یا اگر قوم کی طرف اشارہ ہو تو اس قوم کا مقام بہت بلند کر دیتے۔ضمیر تو ایک شخص کی طرف گئی ہے لیکن بات کا مضمون بتا رہا ہے کہ قومی طور پر ایک مضمون ایک تمثیل کے رنگ میں بیان کیا جارہا ہے۔فرماتا