خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 127

خطبات طاہر جلد ۶ 127 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء کر سکتا اور یہ نفرتیں ختم نہیں ہوئیں اور نفرتوں کے بیج بو چکی ہیں جو پرورش پارہے ہیں اور اسی طرح جیسا کے میں نے بیان کیا تھا ایک طرف مہاجر اور پٹھان کے درمیان جو دشمنیوں کے بیج بوئے گئے ہیں یہ صرف مہاجر پٹھان کے درمیان نہیں ہیں کئی قسم کی شکلوں میں یہ نفرتیں ظاہر ہو رہی ہیں۔پنجابی سندھی، پٹھان مقامی اور پٹھان مہاجر۔ابھی آج ہی کے اخبار میں یہ خبر تھی کہ ایک بم کے دھماکے میں پشاور میں اٹھارہ آدمی ہلاک ہوئے اور غالبا اکاون یا کچھ اس کے لگ بھگ شدید زخمی ہوئے اور مقامی لوگوں نے مہاجروں کے دفتر پر حملہ کیا اور مہاجروں نے اس کے مقابل پر حملہ کر کے کئی دکانیں لوٹیں اور اچھا خاصہ فساد بر پا ہوا۔امن اٹھتا چلا جارہا ہے ، بے اطمینانی بڑھتی چلی جارہی ہے۔یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ناراضگی کا اظہار ہے۔خدا تعالیٰ اپنے پیاروں کی گستاخی برداشت نہیں کیا کرتا۔خدا کے پیارے تو انتقام نہیں لیتے نہ لے سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ تو ذوالانتقام بھی ہے وہ اپنے مظلوم بندوں کا انتقام لیتا ہے اور بعض دفعہ ظلم اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ استغفارا گر آپ ان کے لئے کریں تب بھی وہ استغفار نہیں سنی جائے گی۔قرآن کریم نے اس مضمون کو خوب کھول دیا ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے میں جانتا ہوں کہ بھاری اکثریت ہے، بہت کم ہیں جو حوصلہ چھوڑتے ہیں اور بددعا پر اتر آتے ہیں مگر بہت بھاری اکثریت ہے جو اپنے ہم وطنوں کے لئے اپنے ظلم کرنے والوں کے لئے بھی دعائیں کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے اور انہیں عذاب سے بچائے لیکن بعض مواقع پر مومنوں کی استغفار بھی ظالموں کے لئے کام نہیں آتی۔خصوصا جب خدا کے پیاروں کی گستاخی اور ہتک کی جائے اس وقت اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے۔قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً (التوبه: ۸۰) اے محمد ﷺ ! اگر تو ان ظالموں کے لئے ستر دفعہ بھی استغفار کرے تب بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔بعض نادان اس بات کو سمجھتے نہیں وہ حیران ہو کر دیکھتے ہیں کہ اللہ کا رسول اتنا پیارا ، تمام انبیاء کا سردار اور اس کو خدا فرما رہا ہے تو ان کے لئے ستر دفعہ بھی استغفار کرے تو میں نہیں بخشوں گا۔گویا کہ وہ رحم دل ہے اور اللہ تعالیٰ نعوذ بالله من ذالک ظالم ہے۔اس کا رحم تو جوش میں آیا ہوا ہے جس نے اپنی رحمت ارحم الراحمین سے لی تھی ، حاصل کی تھی اور جو ارحم الراحمین ہے اس کی رحمت جوش میں ہی نہیں آرہی بلکہ اس کا غضب رحمت پہ نعوذ بالله