خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 126

126 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء خطبات طاہر جلد ۶ دشمنی میں حد کر دی اس کے چہروں پر تمہیں مومنانہ شان دکھائی دینی چاہئے ، اس حکومت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی غیر معمولی غیبی تائید نظر آنی چاہئے ، ان کے اخلاق اور ان کے کردار میں سنت کی شان دکھائی دینی چاہئے اور جس ملک میں یہ عظیم الشان خدمت ہو رہی ہے اس ملک پر خدا تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں نازل ہونی چاہئیں۔دن بدن خدا کے پیار کے زیادہ اظہار دکھائی دینے چاہئے لوگوں کو کہ یہ ملک جو اتنا خدمت دین میں آگے بڑھ گیا ہے اتنا ہی اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ پیار کرے، اتنا ہی ان کے گھر بار پر رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں، ان کی گلیاں مسلمان ہو جائیں ، ان کے گھر مسلمان ہو جائیں، ان کے محکمے مسلمان ہو جائیں، ان میں شرافت، دیانت، تقویٰ کا معیار بڑھ جائے ، ان سے چوری ختم ہو جائے ، ان سے ڈا کہ ختم ہو جائے ، ان سے غبن ختم ہو جائے ، رشوت ستانی جاتی رہے۔کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے جور رحمتیں نازل ہوا کرتی ہیں وہ تو اس طرح ہی نازل ہوا کرتی ہیں۔اس قسم کے آثار ہیں جو ظاہر ہوا کرتے ہیں۔اگر برعکس صورت پیدا ہو رہی ہے۔تو اس چیز کو خدمت دین کہنے کا تم کیا حق رکھتے ہو؟ کیوں تمہیں دکھائی نہیں دے رہا کہ جتنا تم احمدیت کی دشمنی میں آگے بڑھتے چلے جارہے ہو اتنا زیادہ خدا کے غضب کے نیچے آتے چلے جارہے ہو۔تمہارا دین جتنا بھی تھا خدا کی ستاری کے پردوں کے نیچے تھا اب تو وہ پردے پھٹ رہے ہیں اب تو اندر سے نہایت بھیانک اور ایسی خوفناک شکلیں ظاہر ہو رہی ہیں کہ جس طرح ناسور سے پردہ اُٹھے تو آنکھوں کو دھکا لگتا ہے۔اس طرح سوسائٹی سے جب یہ ستاری کے پردے اٹھے ہیں تو ایسے ایسے بھیا نک پھوڑے، ایسے ایسے بھیانک ناسور دکھائی دینے لگے ہیں کہ چیخ اٹھا ہے ملک۔کراچی میں جو دردناک واقعات ہوئے ہیں آپ ان کے متعلق اہل قلم کی تحریریں دیکھیں ، ان کی پڑھیں تو اس وقت آپ کو اندازہ ہو گا۔باہر بیٹھے آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ کیسے خوفناک واقعات گزر گئے ہیں۔اُن کی تحریریں پڑھیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کیا گزری تھی ملک کے اوپر۔یعنی مسلمان شاعر اور ادیب یہ لکھ رہے ہیں کہ پارٹیشن کے وقت جو سکھوں نے مسلمانوں پر ظلم کئے تھے یا مسلمانوں نے یہاں مقابل پر غیر مذہب والوں پر ظلم کئے تھے، بعض کہتے ہیں ہم اس دور سے گزر کے آئے ہیں۔وہ ان نظاروں کے سامنے وہ پرانی باتیں جو ہیں وہ مانند پڑ جاتی ہیں۔جیسی بہیمیت ،جیسی سفا کی بعض مسلمانوں نے بعض دوسرے مسلمانوں کے خلاف دکھائی ہے اس کا کوئی آدمی تصور بھی نہیں طمير