خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 121

خطبات طاہر جلد ۶ 121 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء سرنگوں میں گھس جایا کرتے تھے۔سپین میں بھی جب مسلمانوں پر ظلم کا دور ہوا ہے تو ان کو بھی زیر زمین جانا پڑا تھا۔آج کل وہ سرنگیں جو غرناطہ کے ارد گرد ہیں ان میں خانہ بدوش رہتے ہیں۔وہ کسی زمانے میں وہ غاریں مسلمان سپینش عیسائیوں کے ظلم سے بچنے کے لئے استعمال کیا کرتے تھے۔تو ایک زمانہ تھا جب کہ واقعہ زیر زمین جانا ممکن تھا اور جاتے تھے لوگ لیکن اب اس کے لئے جدید زمانوں میں محاورہ بن گیا ہے انڈر گراؤنڈ یعنی زیر زمین ویسے نہیں جاتے لیکن انڈر گراؤنڈ ہو جاتے ہیں وہ اپنے کام جاری رکھتے ہیں مگر سطح پر ظاہر نہیں ہوتے وہ زیر سطح یعنی اندر اندر وہ سارے کام اپنے جاری رکھتے ہیں۔ان کو میں نے کہا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر تھا اور اس دور میں خدا تعالیٰ نے ایک اور اشارہ فرمایا ہے میں نے ان کو لکھا تو نہیں تفصیل سے اتنا لیکن اب میں آپ کو بتارہا ہوں فرمایا اصحبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ (الكيف:۱۰) کہ وہ زیرزمین جانے والے لوگ رقیم بھی تھے۔زیرزمین جا کر سو بھی جایا کرتے تھے جس طرح جانور زیر زمین جا کے سو جایا کرتے ہیں بلکہ وہ لکھتے رہتے تھے۔کوئی سنانے والا نہیں تھا تو وہ لکھ کر اپنے دل کے خیالات اپنی تبلیغ جو خدا تعالیٰ کے رستے میں ان کے ذہنوں میں مختلف باتیں پیدا ہوتی چلی جاتی تھیں وہ ان کو لکھ لیا کرتے تھے ، لکھتے رہتے تھے۔یعنی ایک لمحہ بھی ان کا ضائع نہیں ہوتا تھا اور جماعت احمدیہ پر بھی جہاں جہاں یہ دور ہے وہاں اس آیت کی انگلی آپ کو اشارہ کر کے بتارہی ہے کہ آپ کو بیکار نہیں رہنا ہر حالت میں آپ کو اپنے وقت کا حساب دینا ہے۔اگر کوئی سنے والا نہیں ہے جسے آپ بات سنا سکیں تو رقیم بن جائیں علمی کاموں میں ترقی کریں ، جماعت احمدیہ کے حق میں اور اسلام کے حق میں جو مضامین خدا تعالیٰ آپ کو سمجھاتا ہے وہ لکھنا شروع کریں، خطوط لکھنا شروع کریں۔غرضیکہ کئی طریق پر جب زبانیں بند ہوں تو ہماری تو تحریریں بھی بند کی گئیں ہیں مگر بہر حال جب زبانیں بند ہوں تو قلم انسان کا اس وقت بھی چلتا رہتا ہے اور بعض دفعہ وقتی طور پر وہ تحریریں بھی بند ہو جاتی ہیں لیکن پھر وقت ایسا آتا ہے کہ وہی تحریریں اچھل کے سامنے آجاتی ہیں ابھر آتی ہیں اور پھر تحریر کی جو زبان ہے وہ بہت لمبا عرصہ چلتی ہے۔کلمات تو کچھ عرصہ کے بعد آہستہ آہستہ یادوں سے مٹ جاتے ہیں مگر تحریریں بہت لمبا عرصہ رہتی ہیں۔چنانچہ انہیں تحریروں میں سے ہمارے ایک عزیز بہت ہی پیارے خادم سلسلہ الیاس منیر کی