خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 122 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 122

خطبات طاہر جلد ۶ 122 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء بعض تحریریں ہیں جو یہاں میں نے اکٹھی کی ہیں۔وہ اصحاب کہف بھی ہیں ، واقعہ بھی اصحاب کہف بن گئے ان معنوں میں کہ خدا کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور رقیم بھی بن گئے کیونکہ انہوں نے اپنے جیل کی ساری داستان شروع سے آخر تک اپنے ہاتھ سے لکھ کر مختلف وقتوں میں مجھے بھجوائی اب اس کی آخری قسط کل موصول ہوئی اور اس وقت مجھے خیال آیا کہ واقعہ ظاہری طور پر بھی اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ میں اصحاب الکہف والرقیم پیدا فرما دیئے۔عمداً میں نے اس کی اشاعت رو کی ہوئی ہے کسی مصلحت کے پیش نظر لیکن وہ جب اشاعت ہوگی تو جماعت کے لٹریچر میں ایک بڑا قیمتی اضافہ ہوگا اور جماعت کی تبلیغ کے لئے بھی انشاء اللہ وہ بہت ہی مد و مفید ثابت ہوگی جب بھی وہ کتاب شائع ہوگی۔تو میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایسے دور میں سے گزر رہے ہیں جبکہ اصحاب کہف بھی ہیں اصحاب رقیم بھی ہیں اور رقیم ہونا جماعت کا کئی طرح سے ظاہر ہو رہا ہے۔کثرت سے احمدی خطوں کے ذریعے دوستوں کو یا غیروں کو تبلیغ کرنا شروع کر چکے ہیں۔اگر وہ اپنا نام ظاہر نہیں کر سکتے تو بغیر نام ظاہر کئے بغیر پتہ لکھے وہ خط بھیج رہے ہیں۔بعض لوگ رقیم بن گئے ہیں نظموں کی صورت میں۔اس دور میں جتنے احمدی شاعر پیدا ہوئے ہیں شاید ہی کبھی کسی دور میں اتنے شاعر پیدا ہوئے ہوں۔شاعروں میں ایسے بھی ہیں جن کو شعر کہنا نہیں آتا۔ٹوٹے پھوٹے کلمے ہیں جن کو وہ شعر کہہ کر یا شعروں کی شکل میں لکھ کر وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے شعر کہے لیکن ان کے جذبات میں بڑی گہری شعریت ہے اور وہ شعریت ہے جو مومن کی شاعری کا نمایاں حصہ ہوتی ہے یعنی سچائی کے نتیجے میں ان کے اندر شعریت پیدا ہوئی ہے۔بہت قوت ہے، بہت گہرائی ہے ، بڑا گہرا درد ہے اور بڑا اثر ہے۔بعض ٹوٹی پھوٹی ایسی نظمیں آتی ہیں جو اتنی قوت کے ساتھ دل کو متحرک کرتی ہیں کہ بڑے بڑے شاعروں کا سجا ہوا کلام بھی وہ طاقت نہیں رکھتا اپنے اندر۔تو اصحاب الرقیم کے دور میں سے بھی جماعت گزررہی ہے اور اصحاب الکہف کے دور سے بھی یعنی انڈرگراؤنڈ ہو کر اپنی خدمتوں سے غافل نہیں ، اپنے کاموں سے غافل نہیں ہیں کام کرتے چلے جارہے ہیں۔جو بھی زمانہ ہمارے لئے لے کے آتا ہے یا لے کے آسکتا ہے اس سب کا کوئی نہ کوئی علاج قرآن کریم نے بیان فرمایا ہوا ہے اور قصص کی صورت میں ایک تاریخ لکھی ہوئی ہے جو مختلف بھیس