خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 120
خطبات طاہر جلد ۶ 120 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء ہیں۔مختلف اوقات میں مختلف رنگ میں چیزیں ظاہر ہوتی ہیں۔مثالیں ان کی قرآن کریم بیان فرماتا ہے۔ان پر غور کرنے والے جب غور کرتے ہیں فکر کرتے ہیں تو ان کو ان مثالوں کے اندر بڑے گہرے پیغام ملتے ہیں جو اپنے وقت کے اوپر وقت کے مطابق کھلتے چلے جاتے ہیں اور بات روشن ہوتی چلی جاتی ہے۔پس ان معنوں میں مذہب کی تاریخ بھی اپنے آپ کو دُہراتی ہے اور ان معنوں میں یہ تاریخ پاکستان میں دہرائی جا رہی ہے اور کئی طریق سے دہرائی جا رہی ہے۔اب اگر غور کریں گزشتہ واقعات پر جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں تو ایک سے زیادہ مثالیں آپ کو ایسی نظر آئیں گی جو جماعت احمدیہ کے حالات پر اور جماعت احمدیہ کے مد مقابل ان کے دشمنوں کے حالات پر اس طرح صادق آتی ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ایک دوست نے ایک دفعہ مجھے لکھا بڑے درد سے کہ اب تو یوں لگتا ہے کہ اصحاب کہف کی سی کیفیت پیدا ہورہی ہے۔میں نے اس کو لکھا کہ تم نے تو بڑی مبارک بات کی ہے اس میں درد کی کیا بات ہے۔اصحاب کہف کا دور تو وہ دور تھا کہ ہمیشہ عیسائیت اس پر رشک کرتی رہے گی اور ایسا شاندار دور عیسائیت پر آئندہ کبھی بھی نہیں آسکتا۔انتہائی ممتاز، انتہائی چمکتا ہوا، انتہائی شاندار دور تھا۔اُس دور کے صدقے ، اس دور کی برکتوں کے نتیجے میں عیسائیت کو ترقی ملی ہے۔اگر تم پہ اصحاب کہف کا دور آ گیا ہے تو مبارک ہو تمہیں کہ تم پر خدا تعالیٰ نے یہ دور دوبارہ جاری فرما دیا۔اس لحاظ سے میں نے ان کو لکھا آپ کو شاید علم نہیں تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالی نے الہاماً یہ خبر بھی تھی ، اصحاب کہف کی آیات الہاما دوبارہ آپ پر نازل فرمائی گئیں ( تذکرہ صفحہ: ۸۵) اور آپ کو ی تفہیم بھی نازل ہوئی کہ جماعت احمدیہ پر اصحاب کہف کا ایک دور آنے ولا ہے جبکہ حق بات کو بھی وہ کھل کر نہیں بیان کر سکیں گے اور زیر زمین جانا پڑے گا بعض جگہ۔اب یہ مثال میرے ذہن میں اس لئے آئی ہے تا کہ آپ کو بتاؤں کہ کس طرح تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے اور بعض دفعہ آپ اور سمت میں دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ اور طرف سے ظاہر ہوتی ہے لیکن دُہرا ضرور رہی ہوتی ہے اپنے آپ کو۔اب زیر زمین جانا پرانے زمانے میں واقعہ یعنی مادی لحاظ سے ممکن تھا اور اس طرح ہوا کرتا تھا کہ دشمن کے خطرے سے بیچ کر لوگ زمینوں میں سرنگیں کھود کر یا پہاڑوں میں پہلے سے موجود