خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 99

خطبات طاہر جلد ۶ 99 خطبہ جمعہ ۶ فروری ۱۹۸۷ء پروموٹ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔چنانچہ موسیقی کا اعتراض مغرب میں اکثر کیا جاتا ہے ان کو میں سمجھا تا ہوں کہ جو لوگ اپنی موسیقی کی تمنا کو مغربی طرز کی موسیقی کے ذریعے تسکین دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ قومیں بسا اوقات اور اکثر صورتوں میں خدا کے ذکر کی لذت سے نا آشنا ہو جاتی ہیں۔وہ ایسی مادی قسم کی موسیقی کا ذریعہ ان کو حاصل ہو جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں جو فطرت کے اندر دبے ہوئے لطیف خدا تعالیٰ نے آلات رکھے ہیں جو ذکر الہی سے لذت پانے والے ہیں جو موجود ہیں جن سے استفادہ نہیں کیا گیا وہ دبتے دبتے دب جاتے ہیں، مرتے مرتے مر جاتے ہیں یہاں تک کے سوائے دنیا کی چھن چھن کے اور کوئی چیز آپ کے اندر تحریک نہیں پیدا کرسکتی ، آپ کے اندر ارتعاش نہیں پیدا کرسکتی۔تو بے خدا ہونے کا ایک طریق بن جاتا ہے۔ایک رستہ ہے جو آپ کو روحانی لذتوں سے دور لے جا رہا ہے اور روحانی لذتوں کی قابلیت آپ کے اندر مارتا چلا جاتا ہے دن بدن۔اس لئے اگر کوئی پوچھتا ہے کہ موسیقی بالکل حرام ہے تو میں کہتا ہوں یہاں تو کان میں پڑے بغیر گزارہ ہی نہیں لیکن موسیقی کی تمنا اور اس میں جذب ہونا حرام ہے یقیناً کیونکہ اس کے بعد پھر تم ذکر الہی کے قابل نہیں رہو گے۔ذکر الہی کو اہمیت دو اور اس کو غالب رکھو پھر اِلَّا اللَّمَمَ (النجم :۳۳) کے اندر کوئی ایسی باتیں آجاتی ہیں تو ان پر اس طرح پکڑ نہیں کی جاسکتی لیکن لازما وہ موسیقی جو فطرت کے تاروں میں روحانی ارتعاش پیدا کرتی ہے وہ موسیقی جو آپ کو ملاء اعلیٰ کے طیور کے گانے سکھاتی ہے وہ موسیقی سیکھیں اور اس موسیقی سے اپنے گھروں کے ماحول کو مترنم کر دیں۔اس طرح یہ نغمے گاتے ہوئے اور یہ ساز بجاتے ہوئے نئی صدی میں داخل ہوں کہ عرش پر بھی آپ کی موسیقی کی صدائیں ایک خاص گن کے ساتھ سنی جانے لگیں اور ایک خاص پیار اور محبت کے ساتھ اس طرح فرشتے آپ کی اس موسیقی کی نقل اتاریں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میرے گانے وہ ہیں جن کو آسمان پر فرشتے بھی گاتے ہیں۔پس آپ فرشتوں کو موسیقی سکھانے والے موسیقار بن جائیں اور اگلی صدی میں اس طرح داخل ہوں کہ ساری دنیا کو ایک نئے انداز میں موسیقی سکھانے والی صرف اور صرف جماعت احمدیہ ہو اور اوّل اور آخر جماعت احمدیہ ہو۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: بعض دوستوں کا، احباب کا اور خواتین کا جنازہ آج جمعہ اور عصر کے بعد پڑھا جائے گا، جنازہ