خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 81

خطبات طاہر ۵ 81 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۸۶ء کرتے ہیں۔اور لمز کی یہ انتہا ہے۔لمز کہتے ہیں طعن و تشنیع جو منہ پر کی جائے۔جب یہ بدی بڑھ جاتی ہے اور ناسور بن جاتی ہے یا Cancer ہو جاتی ہے تو اس سوسائٹی میں پھر سامنے کی طعن و تشنیع کو چھوڑ کر پھر غیب میں باتیں کی جاتی ہیں اور دوسرے کو اپنے دفاع کا کوئی موقع ہی نہیں مل سکتا۔یہ سب سے بڑی بدصورت اس بیماری کی ہے اور اس کا ظن سے گہرا تعلق ہے۔فرماتا ہے: ا يُحِبُّ اَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ، اس کے متعلق میں گذشتہ خطبہ میں تفصیلی گفتگو کر چکا ہوں۔عجیب مثال دی ہے قرآن کریم نے تَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ کہ کیا تم اپنے لئے یہ بات پسند کر لو گے کہ تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھارہے و۔چونکہ اس مضمون کا عنوان یہ باندھا گیا تھا اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ دیکھو مومن بھائی بھائی ہیں اس لئے بھائیوں کے درمیان اصلاح کی کاروائی کرو۔ہرایسی بات کرو جس سے بھائی ایک دوسرے پر راضی رہیں۔اس لئے یہاں بھائی سے مراد سگا بھائی نہیں ہے۔ہر مومن بھائی ہے اور بھائی کہہ کر اس کے گوشت کی طرف توجہ دلانے کا مطلب یہ ہے کہ مردہ بھائی کا گوشت، اول تو بھائی کا گوشت کھانا ویسے ہی مکروہ چیز ہے۔مردہ کہہ کر اس طرف توجہ دلائی کہ وہ اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔جو مرضی اس سے کرو اس کو کچھ پتہ نہیں۔چنانچہ اس کراہت کو نمایاں کر کے دکھا دیا۔ورنہ خالی یہ کہہ دیا جاتا کہ تم اپنے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتے ہو؟ مردہ بھائی کا گوشت کہہ کر اس کی بے چارگی کو بھی ظاہر کیا جس کے خلاف باتیں کی جارہی اور اس کی لذت کی حقیقت کو بھی ظاہر کیا کہ جسے یہ طیب غذا اپنے لئے سمجھ رہا ہے کہ کسی کے خلاف غیب میں باتیں کر کے اس کی برائیاں کر کے مزہ اٹھا رہا ہے۔یہ ایک ایسی مکروہ چیز ہے کہ مردے کا گوشت کھانے والی بات ہے اور وہ بھی بھائی مردہ ہو۔ایسی وضاحت و بلاغت کا مرقع ہے یہ کلام کہ ایک بات کو جب بیان فرماتا ہے تو انتہاء تک پہنچا دیتا ہے اور کتنے چھوٹے سے جملے میں اس برائی کی کتنی تفصیل کے ساتھ مذمت فرما دی گئی۔وَاتَّقُوا اللهَ اِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔وہ بار بار تو بہ کو قبول b کرنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔