خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 82
خطبات طاہر ۵ 82 خطبہ جمعہ ۲۴ /جنوری ۱۹۸۶ء يَايُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ہم نے تمہیں اے انسانو اس لئے پیدا کیا تھا مرد اور عورت میں وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ اور تمہیں قبائل میں اور قوموں میں اس لئے تفریق کیا تھا لِتَعَارَفُوا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقُكُمْ یقینا تم میں سے سب سے معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔اِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ يقيناً اللہ بہت جاننے والا اور بہت خبر رکھنے والا ہے۔اس آیت میں عموماً مختلف علماء شُعُوبًا وَ قَبَابِل کو اپنے خطابات کے لئے نمایاں حیثیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہیں جو تفریق کیا گیا ہے تو موں میں اس کی وجہ یہ نہیں کہ تم میں سے ایک دوسرے پر عزت پائے بلکہ اس کی اور وجہ ہے اور پہلے حصے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جہاں اللہ تعالی یہ فرماتا ہے۔اِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ انٹی ہم نے تمہیں مرد اور عورت پیدا کیا۔اس لئے اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ ترجمہ کرنے والا یا تقریر کرنے والا یہ سمجھتا ہے کہ اس کا لِتَعَارَفُوا سے تعلق کوئی نہیں۔یہ گویا کہ ضمنا ذ کر چل پڑا ہے۔اس کا اس مضمون سے تعلق کوئی نہیں۔مرد اور عورت کو اس لئے تو نہیں پیدا کیا کہ تا ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ہاں شُعُوبًا وَقَبَابِلَ اس لئے پیدا کیا تا کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو۔امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم کا یہ ایک انداز ہے کہ بعض مضامین جو واضح ہوتے ہیں ان کا ذکر چھوڑ دیتا ہے اور ایک مضمون کے تسلسل میں ایک بات نتیجہ نکالے بغیر بیان فرما دیا کرتا ہے۔چونکہ مضمون یہ چل رہا ہے کہ ایک دوسرے پر بڑائی نہ کر ، ایک دوسرے کے اوپر اپنی فضیلت نہ جتاؤ ، ایک دوسرے کو حقیر نہ جانو ، اس لئے پہلا حصہ اس جملے کا اِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وانثى معنی رکھتا ہے کہ جس طرح قوموں میں کوئی فخر نہیں ہے اس طرح مرد اور عورت ہونے میں بھی کوئی فخر ہیں ہے۔محض اس بنا پر کہ کوئی مرد ہے اسے کوئی فضیلت نہیں ہے کسی دوسرے انسان پر یا محض اس بناء پر کہ کوئی عورت ہے کسی دوسرے انسان پر فضیلت نہیں ہے۔یہ جو آج کل مغربی دنیا میں یہ بحث چل رہی ہے کہ عورت بہتر یا مرد بہتر کہ دونوں میں برابری ہو۔قرآن کریم اس مضمون کو اس رنگ میں پیش نہیں فرماتا جس رنگ میں مغربیت کا رخ جا رہا