خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 80
خطبات طاہر ۵ 80 خطبه جمعه ۲۴ / جنوری ۱۹۸۶ء ہے۔اگر وہ اس کی کنہ کو پا جائیں۔سائنس نے تمام ترقی اس بات پر کی ہے کہ شواہد کی تلاش کی ہے اور اگر کوئی قطن پیدا بھی ہوا ہے تو اس کا نام وہ Hypothesis رکھتے ہیں اور نظن پیدا ہونے کے بعد اس پر انحصار نہیں کرتے بلکہ شواہد کی جستجو شروع کر دیتے ہیں اور جب شواہد کسی حد تک گواہ مل جائیں کہ ہاں اس فن کے صحیح ہونے کا امکان موجود ہے تو پھر اسے کہتے ہیں اس کا نام Theory یا نظریہ ہے۔اور پھر بھی شواہد کی تلاش نہیں چھوڑتے یہاں تک کہ اور بڑھتے ہیں اور وسیع نظر کرتے ہیں۔ماضی کے شواہد بھی دیکھتے ہیں ، حال کے شواہد بھی دیکھتے ہیں، مستقبل میں جو رخ اختیار کر سکتے ہیں تجارب ان پر بھی نظر ڈالتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ ہر لحاظ سے ہر پہلو سے وہ نظر یہ درست تھا اور اس کے بدلنے کا کوئی امکان نہیں تو اس کا نام Law رکھ دیا جاتا ہے۔یہ سائنس کا قانون ہے۔اگر اس کے بر عکس فن پر راضی رہنے والی قو میں ہوتیں جیسا کہ مشرق میں بدقسمتی سے یہ بیماری پائی جاتی ہے تو اپنے ظن کے مطابق وہ شواہد کو موڑنے کی کوشش کرتے اور جس طرح روحانی دنیا میں گناہ ہوتے ہیں مادی دنیا میں بھی گناہ ہوتے ہیں مادی دنیا میں بھی بعض ظن سو بن جاتے ہیں۔چنانچہ جتنا کیمیا گروں نے مشرق کی دولتوں کو لٹایا ہے اور خاک کے سوا ان کے پلے کچھ بھی نہیں پڑا یہ سارا اسی گناہ کی پاداش ہے کہ وہ وطن میں مبتلاء ہوۓ كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِ کے عادی ہو گئے اور بعض ظن جو غلط تھے ان کو درست کرنے کی بجائے ان کی پاداش انہوں نے دیکھی اور قوموں کو بلندی سے تنزل کی راہ پر اتار دیا۔تو ظن کی عادت بڑی بری چیز ہے۔قرآن کریم نے اسی لئے یہ نہیں فرمایا کہ براظن نہ کرو۔فرمایا کہ خطن سے بچنے کی کوشش کرو، جہاں تک ممکن ہے جستجو کرو ، جہاں تک ممکن ہے حقائق کی تلاش کرو۔حقائق کی جستجو تمہاری عادت ہونی چاہئے اور ظن تمہاری عادت نہیں ہونی چاہئے۔اگر خن تمہاری عادت بن گیا تو پھر لازماً تم بعض برے ظنوں میں بھی مبتلا ہو گے جن کی پاداش دیکھو گے۔اور بدقسمتی سے مشرقی دنیا میں معاشروں کی تباہی کا ایک بڑا موجب ظن کی کثرت ہے۔وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا یہ اسی کی پیداوار ہے۔حقائق کا سامنا کرنے کی جن قوموں کو عادت نہیں رہتی وہ پھر منہ پر بات کرنا بھی نہیں جانتے۔وہ Escape اختیار کرتے ہیں شواہد سے اور یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کی بات Challange ہو جائے گی۔اس لئے فرضی باتوں کے عادی پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ہیں، چھپ کر باتیں کرتے ہیں، چھپ کر طعن تشنیع