خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 860 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 860

خطبات طاہر جلد۵ 860 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء جائے ، بچوں کو سکول سے دیر ہو رہی ہو، بڑی مشکل سے بے چاری مائیں اُٹھیں اور ان کو تیار کریں۔ایک مصیبت کا چکر ہے جو ہر وقت ، قریبا ہر روز ہی ایسے لوگوں کے سامنے رہتا ہے اس چکر میں پڑے رہتے ہیں وہ بے چارے۔ایک حصہ اس میں سے ایسا ہے جس کو Unavoidable کہہ سکتے ہیں چونکہ تھکے ہوئے آدمی نے لازماً اپنی فرحت کا بھی کچھ سامان کرنا ہے، ایک سوشل آدمی نے اپنے تعلقات بھی قائم رکھنے ہیں اس پہلو سے تو یہ چیز نہایت ہی مفید ہے اور انسان کے فرائض میں بھی داخل ہو جاتی ہے لیکن جب ہم ملنے جاتے ہیں تو وہاں موضوع سخن کیا ہے یہ ایک بڑی اہم بات ہے۔ملنے تو جانا ہے اور لوگوں نے ملنے آنا بھی ہے، اس وقت ہم کیا باتیں کرتے ہیں؟ کیا خدا کی بات کرتے ہیں؟ کیا دین کی بات کرتے ہیں؟ کیا مادہ پرست لوگوں پر ایسا تبصرہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہمارے بچوں کی رہنمائی ہو؟ کیا خدا تعالیٰ کے ساتھ خاص تعلقات کی باتیں کرتے ہیں؟ کیا نیک لوگوں کی سیرت کا ذکر چلتا ہے؟ کیا دعاؤں کی قبولیت کا ذکر چلتا ہے؟ کیا ایسے مسائل کا ذکر چلتا ہے جن سے بچنا ہماری اگلی نسلوں کے لئے ضروری ہے۔اگر یہ سارے ذکر چلتے ہوں تو تفریح بھی ہو جاتی ہے اور اس وقت کا بہترین مصرف بھی ہو جاتا ہے۔اس لئے یہ تو ناممکن ہے کہ ہم جائزہ لینے کے بعد یہ کہیں کہ آئندہ سے بالکل ایک دوسرے سے ملنا بند کر دیا جائے۔ہر شخص اپنے گھر میں بیٹھ جائے اور ہر شخص اپنے گھر کے ہر کمرے میں بند ہو کے بیٹھ جائے۔یہ تو ناممکن ہے لیکن وقت کا جو بھی مصرف ہے اس میں اچھا بھی ہے اور برا بھی ہے۔اچھا مصرف اختیار کرنا چاہئے۔اس کا جائزہ آپ لیں کہ گزشتہ سال جو آپ نے بہت سا وقت ضائع کیا اور اپنی اگلی نسلوں کو بھی ایسی سمت میں دھکیلا ہے جہاں سے بعد میں آپ ان کو بلانا بھی چاہیں گے تو نہیں آسکیں گے واپس۔اس کی بجائے آئندہ ایک باشعور بالغ نظر قوم کے انداز میں اپنے وقت کا جائزہ لیں اور آئندہ کے لئے بہتر پروگرام بنا ئیں۔دوسرا حصہ جو وقت کے ضیاع کا ہے وہ اس وقت کی سب سے بڑی لعنت ٹیلی وژن ہے۔ٹیلی وژن میں اتنا وقت ضائع ہوتا ہے کہ اگر ضائع ہونے والے وقت کا اندازہ کریں تو آپ حیران ہو جائیں گے کہ یہ مغربی قو میں بھی عموماً مصروف کہلاتی ہیں، جو عموماً اپنے وقت کی قیمت