خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 859
خطبات طاہر جلد ۵ 859 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء جس امر کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ ایک سوال ہے جو سب کے لئے مشترک ہے کہ کس حد تک ہم نے اپنے وقت کو ضائع کیا اور کس حد تک ہم نے اپنے وقت کی بالا رادہ قیمت وصول کرنے کی کوشش کی۔اگر اس سوال کو ہم ہر ایک سے پوچھیں یا ہر ایک اپنے آپ سے پوچھے تو حیران ہوگا یہ جواب پا کر اپنے نفس سے کہ میں نے اپنے وقت کی قیمت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔کبھی سوچا ہی نہیں کہ میرے وقت کی ایک قیمت ہے سوائے اس قیمت کے جو اپنے پروفیشن میں ، اپنے شعبے میں مجھے خود بخود ملتی ہے، وہ قیمت تو بالکل اور چیز ہے میں اس کی بات نہیں کر رہا۔میں اس وقت کی بات کر رہا ہوں جو انسان کا اپنا وقت ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر کا ڈاکٹری سے فارغ ہونے کے بعد، طالب علم کا کتابوں کے مطالعہ سے فارغ ہونے کے بعد وغیرہ وغیرہ۔اس پہلو سے ہم جائزہ لیتے ہیں تو عموماً ایک بات ضرور سامنے آتی ہے کہ ہم اپنے وقت کا اکثر حصہ یعنی بچے ہوئے وقت کا جس پر ہمارا اختیار تھا ضائع کر دیتے ہیں اور نیک مقاصد پر ان کو استعمال نہیں کرتے۔یہ ضیاع مختلف جگہوں پر مختلف شکل میں ہو رہا ہے۔پسماندہ اقوام میں یہ ضیاع زیادہ تر گپیں مار کر ہو رہا ہے اور کچھ نہیں بس چلتا ان کا تو پھر وہ آپس میں بیٹھ جاتے ہیں بازاروں پر، گلیوں کے کونوں میں جن کو خدا نے توفیق دی ہے گھروں میں، اپنے گھروں میں یا کسی دوسرے کے گھر میں جا کر اور وہ ان گپوں میں بیٹھے مصروف رہتے ہیں کسی طرح ان کا وقت ٹلتا ہی نہیں وہ کیا کریں بے چارے۔وقت گزارنے کے لئے کوئی نہ کوئی ترکیب کرنی پڑتی ہے۔مجالس لگاتے ہیں ایک دوسرے کے گھر پر جا کر اور بچوں کو بھی وقت کے ضائع کرنے کی عادت ڈالتے ہیں اور مادہ پرست قوموں میں بسنے والے احمدی خاندانوں میں سے بھی ایک طبقہ ایسا ہے چونکہ وہ دوسرے گندے کاموں میں نہیں پڑتے اس لئے نسبتاً کم گندے کام میں پڑتے ہیں یعنی وقت کا ضائع کرنا وہ سمجھتے ہیں کہ گندہ کام ہی نہیں ہے چونکہ ہم نے شرا میں نہیں پینی چونکہ ہم نے ڈانسنگ ہالز میں نہیں جانا اور سوشل کا لز اس قسم کی نہیں کرنی جن میں گندگی میں ملوث ہونا پڑتا ہے۔اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے بہتر اور کیا وقت کا مصرف ہے کہ ہم ایک دوسرے کے گھروں میں جائیں اور باتیں کریں اور گئیں ماریں اور چغلیاں کریں اور حالات کا جائزہ لیں، کھیلوں پر تبصرے کریں اور پھر تھکے ماندے گھر واپس آجائیں اور پیچھے بھی لوگوں کو تھکا ہوا چھوڑ آئیں پھر دوسرے دن صبح نماز کے لئے نہ کسی سے اُٹھا