خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 861
خطبات طاہر جلد۵ 861 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء وصول کرنا جانتی ہیں ان کا ایک جائزہ میرے علم میں آیا ہے کہ تقریباً روزانہ ایک ہاؤس وائف (House Wife 5 گھنٹے ٹیلی وژن پر ضائع کرتی ہے۔اگر یہ جائزہ درست ہے ،اگر درست سو فیصدی نہ بھی ہو تو تین گھنٹے بھی سمجھ لیں۔تو تین گھنٹے ٹیلی وژن کے ساتھ بندھنا ایک بہت ہی بھاری وقت کی قربانی ہے۔لیکن صرف یہ بات نہیں ہے اس کے اندر اور بھی ایسے خطرات ہیں جن کی طرف خصوصاً امیر ملکوں میں بسنے والے احمدیوں کو متوجہ کرنا ضروری ہے۔ٹیلی وژن ایک دلچسپ چیز ہے یعنی دلچسپ ہوسکتی ہے کئی پہلوؤں سے۔اس میں علمی پروگرام بھی ہوتے ہیں اس میں کہانیاں بھی ہوتی ہیں جو معصوم ہوں، کارٹون بھی ہوتے ہیں بچوں کے لئے اور تحقیقاتی مضامین بھی ہوتے ہیں، سیاسی مباحث بھی ہوتے ہیں، لیکن بالعموم ان سارے پروگراموں کا رحجان اسی فلسفہ حیات کی طرف ہے جس کا ذکر قرآن نے اس آیت میں فرمایا ہے یعنی جو سنجیدہ باتیں کرتے بھی ہیں وہ بھی اس احتیاط کے ساتھ کہ لوگ بور نہ ہو جائیں۔اس لئے اس سے پہلے بھی گندہ پروگرام رکھیں گے فضول ، اس کے بعد بھی رکھیں گے بیچ میں اشتہار ہی گندے کر دیں گے اور کچھ نہیں تو عمومی تاثر جو ٹیلی وژن کا پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ بچے دن بدن زیادہ پابندیوں اور ذمہ داریوں سے آزاد ہوتے چلے جاتے ہیں۔بہت سے ایسے جرائم ہیں جوان سوسائٹیوں میں بڑھ رہے ہیں جو براہ راست ٹیلی وژن سے سیکھے جاتے ہیں۔خاص ادائیں ہیں بدمعاشوں کی چلنے کی اور معصوم بچہ جب اس قسم کی اداؤں کو دیکھتا ہے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ صحیح فیصلہ کرے کہ ہیرو کون ہے مجھے وہ بننا چاہئے یا ولن بننا چاہئے۔ایک طبقہ ایسا ہے جن کے ساتھ ماں باپ کے سلوک اچھے نہیں ہیں ان کے اندر رد عمل پایا جاتا ہے اور ہر ایسا بچہ جس کے اندر کوئی نفسیاتی رد عمل پایا جاتا ہے وہ زیادہ اس کے لئے امکان ہے کہ وہ ہیرو کی بجائے ولن یعنی جو نیک انسان کا کردار ہے اس کی بجائے بدمعاش کے کردار کو اختیار کرے اور ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ان کی نسلیں ولن بننے کی طرف زیادہ متوجہ ہوتی چلی جارہی ہیں اور ان کو پتہ نہیں لگ رہا کہ ہم کیوں کر رہے ہیں ایسا اور کیا کر رہے ہیں۔احمدی بچے بھی جب دیکھیں گے تو ان میں سے بھی جو ایسے گھروں میں ہیں جن کے اندر نفسیاتی توازن نہیں پایا جاتے ان کے اندر کرائم (Crime) کا، جرم کا رحجان بڑھے گا اور جن کے اندر نہیں بھی بڑھے گا اس وجہ سے بعض دوسرے پروگرام براہ راست گندگی سکھانے والے ہیں ان میں سب کا ہی رد عمل