خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 79

خطبات طاہر ۵ امن برباد ہو جاتا ہے۔پھر فرمایا: 79 خطبہ جمعہ ۲۴ / جنوری ۱۹۸۶ء يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنَّ اِثْم وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُم بَعْضًا کہ اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو بے وجہ خیال آرائیاں نہ کیا کرو۔اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ كَثِيرًا مِنَ الظَّر تم وہموں میں ہی مبتلا رہ کر زندگی گذار دو گے۔سوچتے رہتے ہو کہ فلاں نے یہ بات کیوں کی ہوگی کس لئے کی ہوگی ،کس بری نیت سے کی ہوگی۔یا فلاں کا یہ فعل کیوں ہوا ہوگا اور اس کے نتیجے میں اپنے ذہنوں میں بھی کہانیاں بنتے رہتے ہو اور ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پالتے رہتے ہو۔چنانچہ معاشرے میں بہت سی برائیاں گھروں میں كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔یہ نہیں فرمایا کہ خطن بالکل نہ کرو کیونکہ استنباط ایک ظن کا حصہ ہے بعض مواقع پر بعض علامتیں ظاہر ہوں تو ظن کے بغیر چارہ نہیں لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ظنوں میں مبتلا نہ ہو جاؤ ، اپنی زندگی کو ظنوں کے سپرد نہ کر دو گویا کہ تم ظنوں کے ہو کر رہ گئے ہو۔تو ہمات ، بے بنیاد باتیں سوچنا اور یہ نہیں فرمایا کہ ہر ظن گناہ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِ اِثْم بہت زیادہ ظن کی عادت ڈالو گے تو بعض ظن ایسے ہونگے ، بعض گمان ایسے ہوں گے جو گناہ بھی ہو جائیں گے۔اس لئے ہمارے محاورے میں حسن ظن اور سوئے ظن دو محاورے پائے جاتے ہیں تو جب فرمایا اجتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِ تو مراد یہ ہے کہ سوئے ظن سے بچو اور یہ کہنے کی بجائے کہ سوئے ظن سے بچو جب یہ فرمایا کہ اکثر ظن نہ کیا کرو، تو مراد یہ ہے کہ عموما ظن کی عادت اچھی نہیں ہے۔ایک بہت لطیف رنگ ہے یہ بات کو بیان کرنے کا اور اگر آپ جدید رحجانات سائنس کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت ہی گہری سچائی ہے اس طرز بیان میں۔جولوگ ظن پر مائل ہوتے ہیں وہ شواہد کی تلاش چھوڑ دیتے ہیں اور جو لوگ شواہد کو فوقیت دیتے ہیں وہ ظن سے اکثر بچتے ہیں، مجبور ہو جائیں تو ظن کرتے ہیں ورنہ وہ شواہد کے پیچھے چلتے ہیں، شواہد کی جستجو میں رہتے ہیں۔تو یہ بنیادی اصول ہے جو قوموں کے لئے بہت ہی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے فرمایا