خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 78

خطبات طاہر ۵ 78 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۸۶ء تصورات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یہ باقی رہنے والی چیز یں نہیں ہیں۔فخر کی چیز تو وہی ہو سکتی ہے جو باقی رہنے والی ہو۔یہ تو عارضی واقعات ہیں، عارضی رونما ہونے والے عوارض ہیں اس سے بڑھ کر ان کی کوئی حیثیت نہیں۔پھر قرآن کریم فرماتا ہے کہ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ایک دوسرے پر الزام تراشی نہ کیا کرو۔طعنے نہ دیا کرو، لمز کا مطلب ہے کہ طعن کرنا۔کسی کو کاٹنا زبان سے ، چر کے لگانا، دکھ پہچانے کی خاطر بات کرنا۔وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ تم ایک دوسرے کو دکھ پہچانے والی باتیں نہ کیا کرو۔وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ۔اور نام اس خاطر نہ رکھا کرو کہ ناموں کے ذریعے کسی کی تحقیر ہو اور یہ جو بیماریاں ہیں یہ قوموں میں بھی پائی جاتی ہیں اور افراد میں بھی پائی جاتی ہیں، عالمی سطح پر بھی پائی جاتی ہیں اور معاشرتی سطح پر بھی پائی جاتی ہیں۔بعض لوگ بعض قوموں کے نام رکھتے ہیں یہ بتانے کی خاطر کہ یہ ذلیل اور ادنیٰ لوگ ہیں۔چنانچہ Nigger حبشی کو کہا جاتا ہے۔سیاہ فام قوموں کو تو Nigger کا لقب ہی تکلیف دینے کی خاطر ہے۔اور جب امریکہ یا کینیڈا میں Paki کہتے ہیں کسی کو یعنی پاکستانی تو بڑی شدید گالی سمجھی جاتی ہے۔یعنی بدقسمتی سے پاکستانیوں کا وہاں کردار ایسا رہا ہے یا کوئی اور وجوہات پیدا ہوئی ہیں کہ اس کے نتیجے میں ایک سفید فام قوم نے ہماری قوم کا نام Paki رکھ دیا ہے اور یہ بھی تنابَزُوا بِالْأَلْقَابِ کی ایک ذلیل مثال ہے۔نیچی سکھوں کو بھی Paki کہتے ہیں جو بے ہودہ کام کر رہے ہوں۔ہندو ہوں تب بھی ان کو بھی Paki کہیں گے۔کسی اور قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔برائی کی نشانی Paki بن گئی ہے۔گویا نعوذ باللہ پاکستانی ہر برائی کا مرجع اور منبع ہے، ہر برائی اسی سے پھوٹتی ہے اور اسی میں لوٹ کر آتی ہے۔اور انفرادی طور پر غلط نام رکھنے یہ تو عام رواج ہمارے ملک میں پایا جاتا ہے۔سکولوں میں تو یہاں تک رواج تھا کہ ہر استاد کا ایک ایک نام رکھا ہوتا تھا اور اصل نام سے بعض لوگ استادوں کو جانتے ہی نہیں تھے ، اس برے نام سے جانتے تھے اور یہاں تک کہ کئی سال گذرنے کے بعد ایک نسل بوڑھی ہوگئی تب بھی استاد کا اصل نام تو یاد نہیں رہا یہ لقب یا درہ گیا کہ فلاں صاحب یہ تھے اور فلاں صاحب یہ تھے۔تو یہ معاشرے کی برائیاں ہیں جن کے نتیجے میں ہر طرف کس گھولی جاتی ہے، زہر پھیلتا ہے۔خاندان خاندانوں سے لڑتے ہیں۔بیوی خاوند سے لڑتی ہے، ساس بہو سے لڑتی ہے اور سارے گھر کا