خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 77

خطبات طاہر ۵ 77 خطبہ جمعہ ۲۴ / جنوری ۱۹۸۶ء کرنے کی خاطر ، مرض پر انگلی رکھ دینے کی خاطر خدا تعالیٰ نے معاشرے کی برائی کا ذکر کرتے ہوئے عورت کو بطور مثال پیش فرمایا اور اسے تنبیہ کی کہ دوسری عورتوں کے اوپر فوقیت نہ دکھایا کرو۔ان دونوں جملوں کے ساتھ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ، عَلَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔اس میں خدا تعالیٰ ایک عظیم الشان قومی تغییرات کا گر بیان فرماتا ہے ، راز بیان فرماتا ہے۔جس طرح رات دن میں بدلتی ہے اور دن رات میں اسی طرح یہ قومی تفاخر بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔اور یہ خیال غلط ہے کہ ایک قوم ہمیشہ کے لئے دوسری قوم پر ایسی فضیلت اختیار کر جائے کہ ان کے اندر ایک تفاخر کی وجہ پیدا ہو جائے۔ذاتوں کے فخر بھی بدلتے رہتے ہیں ، قوموں کے فخر بھی بدلتے رہتے ہیں۔ان کے بدلنے کی رفتار اتنی آہستہ ہے کہ عموماً انسان اپنی زندگی میں ان کو محسوس نہیں کر سکتا۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اگر پیچھے مڑ کر دیکھے تو خود اپنے زمانے میں ہی ان تغیرات کو پیدا ہوتا ہوا محسوس کر سکتا ہے۔آج سے چالیس سال پہلے یا پچاس سال پہلے ہندوستان میں ذات پات کی جس قدر تمیز پائی جاتی تھی آج اس کا عشر عشیر بھی باقی نہیں رہا۔انگلستان میں جو نوابی کے تصورات سوسال پہلے پائے جاتے تھے آج اس کا سوؤاں حصہ بھی باقی نہیں ہے۔وہ قو میں وہ لوگ وہ پیشے جن کو بہت تحقیر سے دیکھا جاتا تھا آج وہ معرز ترین پیشے بن گئے ہیں، معزز ترین قو میں بن گئی ہیں۔پس قرآن کریم جب یہ فرماتا ہے عَسَى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ تو مراد یہ ہے کہ یہ قدریں کوئی باقی رہنے والی قدریں نہیں ہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے ایسا بنایا ہوتا کہ ایک نسل کو دوسری نسل پر فوقیت دی ہوتی اور ایک قوم اور ذات کو دوسری قوم اور ذات پر فوقیت دی ہوتی تو ان کے تبدیل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔اللہ کی بنائی ہوئی چیزیں اللہ کی بنائی ہوئی تقدیر کو تو کوئی بدل نہیں سکتا۔خدا کی سنت تو غیر محول اور غیر مبدل ہوتی ہے۔تو فرمایا کہ ان کے جھوٹا ہونے کا ان کے بے معنی اور بے بنیا د ہونے کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ یہ چیزیں بدل جائیں گی۔آج وہ لوگ جو فخر کر رہے ہیں دوسروں پر عین ممکن ہے کہ کل وہی لوگ ان پر فخر کر رہے ہوں اور ان کو تحقیر سے دیکھ رہے ہوں، حقیر جان رہے ہوں۔تو یہ جو عالمی تصورات ہیں جو رفتہ رفتہ رونما ہونے والے ہیں۔بعض دفعہ سینکڑوں سال میں بعض دفعہ ہزاروں سال میں بالکل نظریات کی کایا پلٹ دیتے ہیں۔ان