خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 768 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 768

خطبات طاہر جلد۵ 768 خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۸۶ء جہاں تک دنیا کے کان ہیں ان کو سوائے اس کے کوئی اور شور سنائی نہیں دیتا ہے کہ میں بہتر ہوں میری طرف آؤ۔اسلام بھی اس مذہب کے اکھاڑے میں ایک پہلوان کی طرح اس باہمی جدال میں حصہ لے رہا ہے اور اسلام کا بھی یہی دعویٰ ہے۔۔تو سوال یہ ہے کہ اس دعوئی میں اور دوسرے شور میں فرق کیا ہے۔جب سب مذاہب یہ کہتے ہیں کہ ہم بہتر ہیں تو اسلام بھی ان میں سے ایک ہوا۔کیوں دوسرے مذاہب کو چھوڑ کر لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہوں اور اس آواز کو اہمیت دیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو روز مرہ کی زندگی میں ایک مسلمان سے بسا اوقات پوچھا بھی جاتا ہے۔جب آپ ایک عیسائی کو تبلیغ کریں یا ایک ہند و کو تبلیغ کریں یا ایک سکھ کو تبلیغ کریں تو وہ یہی جواب دیتا ہے کہ ہم بہتر ہیں اور اگر یہ جواب نہ بھی دے تو یہ ضرور دیتا ہے کہ سب اپنی اپنی جگہ بہتر ہیں۔ہر ایک اپنے آپ کو اچھا سمجھ رہا ہے۔اس لئے ہم صلح کل حکمت عملی کے قائل ہیں ہم یہ نہیں چاہتے ہیں کہ دنیا میں فساد ہو آپ اپنی جگہ اچھے ہم اپنی جگہ اچھے آپ بھی بہتر اور ہم بھی بہتر۔تو بجائے اس کے کہ امتیاز پیدا ہو بچے اور جھوٹے میں، روشنی اور اندھیرے میں اس جواب کے نتیجہ میں ایک اور ابہام پیدا ہو جاتا ہے۔پس اگر واقعی اسلام اچھا ہے، اگر واقعی قرآن سچا ہے تو اس کے دعوئی میں اور دوسرے ایسے ملتے جلتے دعاوی میں ایک ما بہ الامتیاز ہونا چاہئے ، ایک ایسا واضح فرق ہونا چاہئے جو تاریک کو روشن سے اور روشن کو تاریک سے جدا کرے۔چنانچہ قرآن کریم جب یہ دعویٰ کرتا ہے تو اس کے ساتھ بعض ایسی علامتیں بھی پیش کرتا ہے جس کے نتیجے میں یہ فرق خود بخود کھل جاتا ہے۔فرماتا ہے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کہ اے مسلما نو ! اس دعاوی کی جنگ میں سب یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بہتر ہیں ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ تم بہتر ہو اوران تمام قوموں سے بہتر ہو جو کبھی بھی خیر کے نام پر دنیا کی بھلائی کے لئے نکلی تھیں لیکن وہ کون سی علامتیں ہیں جو تم میں پائی جانی ضروری ہیں جن کے بغیر تم بہتر نہیں کہلا سکتے ہو۔اس کے لئے تین شرطیں واضح طور پر شروع میں بیان کیں اور کچھ شرطیں جو دشمن کے ساتھ امتیاز کے لئے دشمن کی صفات کو ظاہر کرنے والی ہیں وہ بھی بیان فرما دیں۔اس مجموعی تصویر پر جوصرف دو آیات میں مکمل کر دی گئی ہے غور کرنے کے بعد بچے اور جھوٹے میں اشتباہ کا کوئی دور کا بھی احتمال باقی نہیں رہتا۔