خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 769
خطبات طاہر جلد ۵ 769 خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۸۶ء پہلی بات یہ فرمائی گئی كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تم اس لئے بہتر نہیں ہو کہ دنیا تمہارے سامنے سر جھکائے اور دنیا تمہاری خدمت کرے، اس لئے بہتر ہو کہ تم دنیا کی خدمت کے لئے قائم کئے گئے ہو۔اگر تم میں یہ بنیادی صفت موجود ہے اور یہ زندہ رہتی ہے اگر محض یہ دعوی نہیں بلکہ عملاً تم بہبود بنی نوع انسان کے لئے وقف رہتے ہو تو پھر جان لو کہ بہتری کی ایک بنیادی شرط تم میں پوری ہوگئی۔اب دیکھئے بہتری کے تصور کو کیسا یکسر پلٹ کر رکھ دیا ہے جب ایک شخص یہ اعلان کرتا ہے کہ میں بہتر ہوں تو بسا اوقات اس اعلان کا مقصد یہ ہوتا ہے میری خدمت کرو میرے سامنے سر جھکاؤ اور ان دعووں کا ہمیشہ یہی رخ رہتا ہے۔شیطان نے بھی کہا تھا میں بہتر ہوں۔چنانچہ مذہب خواہ سچا ہو خواہ جھوٹا ہو، خواہ رحمانی ہو خواہ شیطانی ہو ان میں دعویٰ کی جنگ بہر حال ایک رہتی ہے۔اسی لئے شیطان نے دعوی کیا کہ یہ میرے سامنے سر جھکائے۔آدم نے یہ اعلان نہیں کیا کہ تو میرے سامنے سر جھکا۔آدم کے متعلق خدا نے اعلان کیا تھا کہ میں نے بہتر بنایا ہے اس لئے تو اس کے سامنے سر جھکا۔پس قرآن کریم میں جہاں تک لوگوں کا تعلق ہے، بنی نوع انسان کا تعلق ہے ان کو یہ زبان سکھائی ہی نہیں کہ چونکہ تم بہتر ہو اس لئے دنیا کو اپنی خدمتوں کے لئے مجبور کر دو اور اپنے سامنے ان کے سر جھکاؤ ، اپنی انا کے سامنے ان کی گردنیں خم کر دو کیونکہ ہم نے تمہیں بہتر بنایا ہے۔کیسی حیرت انگیز کیسی لطیف تعریف فرمائی۔بہتری کے دعاوی میں ایک ایسا ما بہ الامتیاز پیدا کر دیا جسے ایک متکبر اور جھوٹا آدمی اختیار کر ہی نہیں سکتا۔كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اے محمد مصطفی ﷺ کی امت! تم یقیناً بہتر ہو اس لئے کہ تم دنیا کی خدمت کے لئے نکالے گئے ہو، دنیا کی بھلائی کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔دوسری بات یہ فرمائی تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ دوسری شرط یہ ہے کہ جب بھی تم کہتے ہو، تو بھلائی کی بات کہتے ہو نہ صرف یہ کہ خدمت کرتے ہو بلکہ بھلائی کی طرف بلاتے ہواور برائیوں سے روکتے رہتے ہو تمہارا شعار یہ بن گیا ہے اور یہ تمہاری فطرت ثانیہ یہ ہو چکی ہے۔اب اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ مذہب کی تفصیل کا کوئی ذکر نہیں ، نہ اسلام کا ذکر ہے، نہ کسی اور مذہب کا ذکر ہے نہ ان کی تعلیم کی تفصیل کا ذکر ہے بلکہ بنیا دی ان صفات کا ذکر ہے جو تمام