خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 649 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 649

خطبات طاہر جلد۵ 649 خطبه جمعه ۳/اکتوبر ۱۹۸۶ء ہے۔وہ آگے بڑھتے ہیں لیکن اپنی قدروں کو پیچھے چھوڑ کر اور ان سے زیادہ نقصان اٹھانے والے بن جاتے ہیں کیونکہ نہ وہ اس دنیا میں اس طرح محنت کرنے کے اہل ہوتے ہیں جس طرح ان لوگوں نے محنتیں کیں ، جن کی ساری کی ساری کوششیں دنیا کے لئے وقف ہیں۔نہ وہ دین کے رہتے ہیں کیونکہ دین کے نتیجہ میں تو ان کو دو ہری محنت کرنی پڑے گی۔دنیا کا فلسفہ بھی سیکھنا تھا آخرت کا بھی سیکھنا تھا، دنیا کے نتائج بھی اخذ کرنے تھے آخرت کے نتائج بھی اخذ کرنے تھے اور ایک متوازن زندگی بسر کرنی تھی۔تو ان کے اوپر تو وہی مثال صادق آتی ہے۔نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے اور یہ جو کیفیت ہے یہ ایک فرضی بات نہیں ہے۔آپ اپنے گردو پیش پر نظر دوڑائیں ، آپ کے اندر ہلکی ہلکی جو تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں نفسیاتی طور پر ان پر غور کریں تو آپ معلوم کریں گے کہ لازماً ہم ایک پلیٹ فارم پر بیٹھے ہوئے ہیں جو آہستہ آہستہ ایک سمت کو بڑھتا چلا جا رہا ہے۔بعض دفعہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم حرکت کر رہے ہیں۔لیکن ہمارا سارا نظریہ حیات تمام رحجانات، تمام احساسات رفتہ رفتہ ان کی کشتی میں بیٹھ کر ان کے ساتھ ایک سمت میں حرکت کر رہے ہوتے ہیں۔اس لئے بڑے شعور کے ساتھ ایک دوٹوک فیصلہ کرنا ہے، یہ فیصلہ کرنا ہے کہ فلسفہ حیات کون سا درست ہے اور کون سا سچا، حقیقی اور دائمی ہے۔کیا یہی زندگی ہے جس میں ہمیں زندہ رہنا ہے اور عیش و عشرت کرنے ہیں اور پھر مزے اٹھا کر مر کر مٹی ہو جانا ہے۔یہ ایک جواب دہی ہے۔اس کائنات میں اور بھی پیغامات ہیں جو اخروی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اگر یہ فیصلہ قطعی ہواور ہوش مندی کے ساتھ کیا جائے تو اس کا ساری زندگی کے اعمال پر اثر پڑتا ہے بالکل نظریہ حیات ہی بدل جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوْا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظيمة (یونس : ۶۳-۶۵)