خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 650 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 650

خطبات طاہر جلد۵ 650 خطبه جمعه ۳/اکتوبر ۱۹۸۶ء ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کا ذکر فرمایا ہے۔اللہ کے ولی اللہ کے دوست ایسے ہوتے ہیں که لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ان پر نہ دنیا کا خوف ہے نہ آخرت کا خوف ہے۔نہ دنیا کا غم ہے نہ آخرت کا غم ہے کیونکہ خدا کے ولی بن جاتے ہیں اس لئے دنیا بھی ان کی ہو جاتی ہے اور آخرت بھی ان کی ہو جاتی ہے۔ہر قسم کے دنیا کے اندیشے بھی ختم ہو جاتے ہیں اور آخرت کے اندیشے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔یہ مضمون جس فلسفہ حیات کو پیش کرتا ہے وہ عام مولویا نہ فلسفہ حیات سے بالکل مختلف ہے۔عام طور پر بعض مذہبی انتہا پسند یہ سمجھتے ہیں یا یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ خدا تب ملے گا جب دنیا ترک کر دو گے اور خدا ملنے کا تعلق یہ ہے کہ دنیا بالکل چھوڑ دو۔احتراز کرو یا دنیا سے بھا گو اور دنیا کی لذتیں صرف ان گندے لوگوں کے لئے ہیں جو دنیا کے پیچھے دوڑ رہے ہیں تمہارے لئے کچھ نہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے یہ بالکل غلط ہے۔مومنوں کے لئے دنیا بھی ہے اور آخرت بھی ہے۔اگر مومن دنیا میں بھی محنت کرتا ہے اور آخرت میں بھی محنت کرتا ہے تو دونوں اس کے قبضہ میں چلی جائیں گی کیونکہ فرمایا اللہ کے اولیاء بن جاتے ہیں یہ لوگ۔جو اللہ کا دوست ہو جب اللہ کی دنیا بھی ہے اور اللہ کی آخرت بھی ہے تو وہ آدھے سے اسے کیوں محروم رکھے گا۔یہ بنیادی چیز ہے جو سمجھنے کے قابل ہے۔آپ کا کوئی دوست ہو اور آپ کو سچا اس سے پیار ہو تو آدھا سنبھال کر الگ تو نہیں رکھ لیا کرتے آپ اس کو دونوں دے دیتے ہیں۔قرآن کریم سے بھی پتہ چلتا ہے اور بعض دوسری آیات میں مزید وضاحت ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی لذتوں سے مومن کو کلی محروم نہیں کرنا چاہتا۔یہ فلسفہ بالکل غلط ہے۔ہاں توازن پیدا کرنا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ دنیا اس کی ثانوی رہے اور دین اول رہے۔اگر یہ تناسب قائم رہے گا تو دنیا بھی اس کی ہے اور دین بھی اس کا ہے۔اگر تناسب بگڑ جائے اور دین نیچے چلا جائے اور دنیا اوپر آجائے تو سب کچھ دنیا کا ہو جاتا ہے۔اس لئے اس مضمون کو سمجھنا چاہئے۔فرمایا لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ بات کو کھول دیا خوب اچھی طرح۔فرمایا ان کے لئے اس دنیا میں بھی خوش خبری ہے وَ فِي الْآخِرَةِ اور آخرت میں بھی خوشخبری ہے اور یہ خدا کا ایسا وعدہ ہے جس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی تم نہیں دیکھو گے لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمٰتِ اللہ۔اتنی قوت کا بیان ہے کہ اس کے بعد کسی شک کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔