خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 648 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 648

خطبات طاہر جلد۵ 648 خطبه جمعه ۳/اکتوبر ۱۹۸۶ء خلاف بغاوت کرنے والے کی محنت کو بھی ضائع نہیں کرتا۔جس کی خاطر خدا تعالیٰ نے کائنات کو پیدا کیا ہے۔ان مقاصد کا انکار کرنے والے کی محنت کو بھی ضائع نہیں کرتا، جس حد تک محنت کرتا ہے قرآن کے بیان کے مطابق جام بھر بھر کے ان کا اجر اُن کو عطا فرماتا چلا جاتا ہے۔یہ ساری مغربی دنیا اور ان کی عظیم الشان ترقیات قرآن کے بیان کے ایک ایک لفظ ایک ایک حرف کی گواہی دے رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر گز کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا ، اگر ہم جو آخرت کے قائل ہیں ، اگر ہم جو اخروی زندگی پر کامل یقین رکھتے ہیں، اگر ہم اس کی راہ میں کوئی محنت کریں گے اور کوشش کریں گے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ خدا جو غیر کی محنت کا پھل پورا دیتا ہے وہ اپنوں کی محنت کا پورا پھل نہ دے، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔یہ نتیجہ نکالنا چاہئے اُن کی ترقیات کو دیکھ کے نہ کہ دین کے متعلق مایوسی اور اپنے فلسفہ حیات کے متعلق عدم اعتمادی۔اس لئے حقیقت یہ ہے کہ مومن اس وقت تک مومن ہے جب تک خدا تعالیٰ کی کائنات پر غور اور تدبر کر کے صحیح نتائج اخذ کرتا ہے۔جب وہ صحیح نتائج اخذ کرنے چھوڑ دے اور آنکھیں بند کر کے کسی راہ پر چل پڑے تو غفلُونَ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ مومن نہیں۔فرمایا یہی لوگ ہیں جو غُفِلُونَ ہیں وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ أَيْتِنَا غُفِلُونَ یہ کافروں کے متعلق فرمایا ہے۔ان کی ساری زندگی غفلت کی حالت میں بسر ہو جاتی ہے۔یہ مضمون میں اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ میں یہ سمجھتا ہوں اور بڑے جائزے کے بعد اس افسوس ناک نتیجہ تک پہنچا ہوں کہ اکثر مسلمان جو مغرب میں آکر زندگی بسر کرتے ہیں۔وہ زیادہ تر غفلت کی حالت میں بسر کرتے ہیں اور ان کی راہ میں بہہ رہے ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ان میں سے ان کی دنیاوی ترقیات سے متاثر ہو جاتے ہیں اور متاثر ہونے کے بعد ان کو ایک احساس کمتری ہر حقیقی اور دائمی نعمت سے محروم کرتا چلا جاتا ہے۔دلوں پر ایک رعب بیٹھ جاتا ہے اور اس رعب بیٹھنے کے نتیجہ میں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو بہت غالب لوگ ہیں۔ان کو دنیا کی ہر چیز میسر آ گئی ہے ، ہم لوگ جاہل ہیں، بیوقوف ہیں شاید اس لئے کہ ہم غلط رستوں پر بیٹھے رہے۔شاید اس لئے کہ ہم نے انہونی باتوں پر ایمان لا کر اپنی قوت عمل کو ختم کر دیا ہے۔اس لئے جو کچھ بھی ہے اس دنیا میں ہی ہے کیوں نہ ہم ان کے پیچھے چپ کر کے چلتے رہیں اور ان کے غلبے اور اثر کو قبول کر لیں۔الفاظ میں کوئی کہے یا نہ کے لیکن نفسیاتی کیفیت اکثر لوگوں کی یہی ہوتی ہے۔نتیجہ ان کی تہذیب ان سے پیچھے رہنے لگ جاتی