خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 647
خطبات طاہر جلد۵ 647 خطبه جمعه ۳ /اکتوبر ۱۹۸۶ء اس کی بھی تیاری کرو، اس کی طرف بھی دیکھو تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے۔آيَعِدُكُمْ أَنَّكُمْ إِذَا مِتُّمْ وَكُنْتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا أَنَّكُمْ مُّخْرَجُونَ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ اِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِينَ (المومنون: ۳۶ - ۳۸) کہ یہ ڈرانے والا ، یہ مومن ، یہ خدا کی ہستی پر ایمان لانے والا کیا تمہیں اس بات سے ڈراتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے وَكُنْتُمْ تُرَابًا اور تم مٹی ہو جاؤ گے وَعِظَامًا اور ہڈیاں بن جاؤ گے أَنَّكُمْ مُّخْرَجُونَ تم پھر نکالے جاؤ گے، کیسی باتیں کرتا ہے یہ بیان کرنے والا یعنی یہ لوگ جو دنیا پر راضی ہو جاتے ہیں اور مطمئن ہو جاتے ہیں، آخرت کے فلسفے کا انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ بہت ہی بعید از عقل بات ہے۔هَيْهَاتَ ایک محاورہ ہے عرب کا دور کی بات۔جیسے ہم اردو میں بعید از عقل بات کہتے ہیں اسی کا عربی محاورہ ہے هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ کہ بڑی بعید از عقل بات ہے۔جس کا یہ تم سے وعدہ کرتا ہے کچھ بھی نہیں ہونا۔تم مر جاؤ گے مٹی بن جاؤ گے تمہاری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی اور اس سے پہلے پہلے کی جو زندگی ہے تم نے جو کچھ کرنا ہے کر لو اِن هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ وہ کہتے ہیں اس دنیا کے سوا جو ہم اس میں زندگی گزار رہے ہیں اور کچھ بھی نہیں ، اسی میں ہم نے مرنا ہے اسی میں ہم زندہ رہتے ہیں اور ہم ہرگز دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے ، ہماری کوئی جواب طلبی نہیں کی جائے گی۔تو دو مختلف فلسفہ ہائے حیات ہیں جو یہاں آکر کھل کر ایک دوسرے کی مد مقابل کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایک طرف یہ دنیا کی قومیں ہیں جنہوں نے دنیا میں بے انتہا ترقیات کی ہیں۔ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ نے ان کی محنت کا ان کو اجر دیا ہے اور ان کا اجر پا نا خدا کی ہستی کے خلاف دلیل نہیں بلکہ خدا کی ہستی کا ثبوت ہے اور مومنوں کے لئے اس میں نصیحت تھی وہ یہ تھی کہ جو خدا اتنا مہر بان ہے اتنا رحمان اور رحیم ہے کہ اپنے انکار کرنے والے کی محنت کو بھی ضائع نہیں کرتا۔اس فلسفہ حیات کے