خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 611
خطبات طاہر جلد۵ 611 خطبه جمعه ۱۹ ستمبر ۱۹۸۶ء ط یہ انتہاء ہے لمز کہتے ہیں طعن و تشنیع جو منہ پر کی جائے۔جب یہ بدی بڑھ جاتی ہے اور ناسور بن جاتی ہے یا کینسر ہو جاتی ہے تو اس سوسائٹی میں پھر سامنے کی طعن و تشنیع کو چھوڑ کر پھر غیب میں باتیں کی جاتی ہیں ، دوسرے کو اپنے دفاع کا کوئی موقع ہی نہیں ملتا۔یہ سب سے بڑھی ہوئی بدصورت اس بیماری کی ہے اور اس کا ظن سے گہرا تعلق ہے۔فرماتا ہے اَیحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ " اس کے متعلق میں ایک گزشتہ خطبہ میں تفصیلی گفتگو کر چکا ہوں۔عجیب مثال دی ہے قرآن کریم نے يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ کہ کیا تم اپنے لئے یہ بات پسند کر لو گے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہے ہو۔چونکہ اس مضمون کا عنوان یہ باندھا گیا تھا اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمُ دیکھ مومن بھائی بھائی ہیں اس لئے بھائیوں کے درمیان اصلاح کی کارروائی کرو، ہرایسی بات کرو جس سے بھائی ایک دوسرے پر راضی رہیں۔اس لئے یہاں بھائی سے مراد سگا بھائی نہیں ہے ہر مومن بھائی ہے اور بھائی کہہ کر اس کے گوشت کی طرف توجہ دلانے کا مطلب یہ ہے کہ مردہ بھائی کا گوشت اول تو بھائی کا گوشت کھانا ویسے ہی مکروہ چیز ہے۔مردہ کہ کر اس طرف توجہ دلائی کہ وہ اپنا دفاع نہیں کرسکتا ، جو مرضی اس سے کرو اس کو کچھ پتہ نہیں۔چنانچہ اس کراہت کو نمایاں کر کے دکھا دیا ور نہ خالی یہ کہہ دیا جاتا کہ تم اپنے بھائی کو گوشت کھانا پسند کرتے ہو؟ مردہ بھائی کا گوشت کہہ کر اس کی بیچارگی کو بھی ظاہر کیا جس کے خلاف باتیں کی جارہی ہیں اور اس کی لذت کی حقیقت کو بھی ظاہر کیا کہ جسے یہ طیب غذا اپنے لئے سمجھ رہا ہے کہ کسی کے خلاف غیب میں باتیں کر کے اس کی برائیاں کر کے ایک مزہ اٹھا رہا ہے یہ ایسی مکروہ چیز ہے کہ مردے کا گوشت کھانے والی بات ہے اور بھی بھائی مردہ ہو۔ایسی فصاحت و بلاغت کا مرقع ہے یہ کلام کہ ایک بات کو جب بیان فرماتا ہے تو انتہاء تک پہنچا دیتا ہے اور کتنے چھوٹے سے جملے میں اس برائی کی کتنی تفصیل کے ساتھ مذمت فرما دی گئی۔الله وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، وہ بہت بار بار تو بہ کو قبول کرنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔یا يُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ و أنثى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا ہم نے تو تمہیں اے انسانو! اس لئے پیدا کیا تھا مرد اور عورت میں وَ جَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ اور تمہیں قبائل میں اور قوموں میں