خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 612
خطبات طاہر جلد۵ 612 خطبه جمعه ۱۹ ستمبر ۱۹۸۶ء ہے۔اس لئے تفریق کیا تھا لِتَعَارَفُوا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَنقُكُمْ یقینا تم میں سے سب سے معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے اِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ اللہ بہت جاننے والا اور بہت خبر رکھنے والا ہے۔اس آیت میں عموماً مختلف علماء شُعُوبًا وَقَبَائِل کو اپنے خطابات کے لئے نمایاں حیثیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہیں جو تفریق کیا گیا قوموں میں اس کی وجہ یہ نہیں کہ تم میں سے ایک دوسرے پر عزت پائے بلکہ اس کی اور وجہ ہے اور پہلے حصہ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جہاں اللہ تعالی فرماتا ہے۔اِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ اُنٹی ہم نے تمہیں مرد اور عورت پیدا کیا۔اس لئے اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ ترجمہ کرنے والا یا تقریر کرنے والا یہ سمجھتا ہے کہ اس کا لِتَعَارَفُوا سے تعلق کوئی نہیں ، یہ گویا کہ ضمنا ہی ذکر چل پڑا ہے اس کا اس مضمون سے تعلق کوئی نہیں۔مرد اور عورت کو اس لئے تو نہیں پیدا کیا کہ تا کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو ، ہاں شُعُوبًا وَقَبَابِلَ اس لئے پیدا کیا کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو۔امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ بعض مضامین جو واضح ہوتے ہیں ان کا ذکر چھوڑ دیتا ہے اور ایک مضمون کے تسلسل میں ایک بات نتیجہ نکالے بغیر بیان فرما دیا کرتا ہے۔چونکہ مضمون یہ چل رہا ہے کہ ایک دوسرے پر بڑائی نہ کرو ایک دوسرے کے اوپر اپنی فضیلت نہ جتاؤ ایک دوسرے کو حقیر نہ جانو اس لئے پہلا حصہ اس جملے کا اِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ انٹی یہ معنی رکھتا ہے کہ جس طرح قوموں میں کوئی فخر نہیں ہے اس طرح مرد اور عورت ہونے میں بھی کوئی فخر نہیں ہے۔محض اس بنا پر کہ کوئی مرد ہے اسے کوئی فضیلت نہیں ہے کسی دوسرے انسان پر یا محض اس بنا پر کہ کوئی عورت ہے اسے کسی دوسرے انسان پر فضیلت نہیں ہے۔یہ جو آج کل مغربی دنیا میں یہ بحث چل رہی ہے کہ عورت بہتر کہ مرد بہتر یا دونوں میں برابری ہو۔قرآن کریم اس مضمون کو اس رنگ میں پیش نہیں فرماتا جس رنگ میں مغربیت کا رخ جارہا ہے لیکن بنیادی طور پر عورت اور مرد کے برابر حقوق کو ضرور تسلیم کرتا ہے اور یہاں یہ ذکر اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ مرد کو عورت پر بھی کوئی فضیلت نہیں ہے۔یہ نہ سمجھنا کہ چونکہ تم مرد ہو اس لئے تمہیں حق ہے کہ کسی عورت کی تحقیر کرو اور اس کی تذلیل کرو۔جس طرح بعض قوموں میں بعض محاورے پائے جاتے ہیں جو عورت کی برائیوں کے اظہار پر وقف ہوتے ہیں یعنی یہ