خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 610
خطبات طاہر جلد۵ 610 خطبه جمعه ۱۹ر تمبر ۱۹۸۶ء سائنس نے تمام ترقی اس بات پر کی ہے کہ شواہد کی تلاش کی ہے اور اگر کوئی ظطن پیدا بھی ہوا ہے تو اس کا نام وہ Hypothesis رکھتے ہیں اور ظن پیدا ہونے کے بعد وہ اس پر انحصار نہیں کرتے بلکہ شواہد کی جستجو شروع کر دیتے ہیں اور جب شواہد ، کسی حد تک گواہ مل جائیں کہ ہاں اس ظن کے صحیح ہونے کا امکان موجود ہے تو پھر وہ اسے کہتے ہیں کہ اس کا نام تھیوری (Theory) یا نظریہ ہے۔اور پھر بھی شواہد کی تلاش نہیں چھوڑتے یہاں تک کہ اور بڑھتے ہیں اور وسیع نظر کرتے ہیں ماضی کے شواہد بھی دیکھتے ہیں، حال کے شواہد بھی دیکھتے ہیں، مستقبل میں جو رخ اختیار کر سکتے ہیں تجارب، ان پر بھی نظر ڈالتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ ہر لحاظ سے ہر پہلو سے وہ نظر یہ درست تھا اور اس کے بدلنے کا کوئی امکان نہیں تو اس کا نام Law رکھ دیا جاتا ہے ، یہ سائنس کا قانون ہے۔اگر اس کے برعکس ظن پر راضی رہنے والی قو میں ہوتیں جیسا کہ مشرق میں بدقسمتی سے یہ بیماری پائی جاتی ہے تو اپنے ظن کے مطابق وہ شواہد کو موڑنے کی کوشش کرتے اور جس طرح روحانی دنیا میں گناہ ہوتے ہیں مادی میں دنیا میں بھی گناہ ہوتے ہیں۔مادی دنیا میں بھی بعض ظن ، سوء بن جاتے ہیں۔چنانچہ جتنا کیمیا گروں نے مشرق کی دولتوں کو لٹایا ہے اور خاک کے سوا ان کے پلے کچھ بھی نہیں پڑا۔یہ سارا اسی گناہ کی پاداش ہے کہ وہ بطن میں مبتلا ہوئے ، كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِ کے عادی ہو گئے اور بعض ظن جو غلط تھے ان کو درست کرنے کی بجائے وہ ان کی پاداش انہوں نے دیکھی قوموں کو بلندی سے تنزل کی راہ پر اتار دیا۔تو ظن کی عادت بڑی بری چیز ہے۔قرآن کریم نے اسی لئے یہ نہیں فرمایا کہ براظن کیا نہ کر وہ فرمایا کہ نظن سے بچنے کی کوشش کرو۔جہاں تک ممکن ہے جستجو کرو اور جہاں تک ممکن ہے حقائق کی تلاش کرو۔حقائق کی جستجو تمہاری عادت ہونی چاہئے اور ظن تمہاری عادت نہیں ہونی چاہئے۔اگر ظن تمہاری عادت بن گیا تو پھر لازما تم بعض برے ظنوں میں بھی مبتلا ہو گے جن کی پاداش دیکھو گے اور بدقسمتی سے مشرقی دنیا میں معاشروں کی تباہی کا ایک بڑا موجب ظن کی کثرت ہے۔وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا یہ اسی کی پیداوار ہے۔حقائق کا سامنا کرنے کی جن قوموں کو عادت نہیں رہتی۔وہ منہ پر بات کرنا بھی نہیں جانتے تھے۔وہ Escapeاختیار کرتے ہیں شواہد سے اور یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کی بات چیلنج ہو جائے گی۔اسی لئے فرضی باتوں کے عادی پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ہیں، چھپ کر باتیں کرتے ہیں، چھپ کر طعن و تشنیع کرتے ہیں اور لمز کی