خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 570
خطبات طاہر جلد۵ 570 خطبه جمعه ۲۲ را گست ۱۹۸۶ء غائب جمعہ کے دن ہی ہو۔چھ دن اور بھی تو پڑے ہوتے ہیں اوراگر یہ خیال ہو کہ دوستوں کی خواہش ہے زیادہ افراد نماز جنازہ پڑھیں تو اکثر صورتوں میں تو جتنے ہم یہاں پڑھ رہے ہیں ان سے زیادہ وہاں پڑھ چکے ہوتے ہیں۔اصل مقصد نماز جنازہ غائب کا یہاں ان دنوں کے حالات میں ہے کہ خلیفہ وقت نماز جنازہ پڑھے اور اس کے ساتھ بہت زیادہ ہوں یا چند ہوں یہ کوئی ایسی اہمیت کی بات نہیں ہے۔ان لوگوں کی دلی تمنا پوری ہو جاتی ہے کہ خلیفہ وقت نے ان کی یا ان کے عزیزوں کی نماز جنازہ پڑھائی ہے۔تو جمعہ پر اس کو مسلسل پیش نہیں کرنا چاہئے۔اس سے پھر بعض بد عادتیں بھی پیدا ہوسکتی ہیں، مثلاً ریا کاری بھی داخل ہوسکتی ہے۔بعض لوگوں کے عزیزوں کا نام جب جمعہ کے دن پڑھا جاتا ہے کہ ان کے فلاں کی نماز جنازہ غائب ہوئی تو اس سے ایک نفسانیت کا کیڑا بیچ میں کلبلانے بھی لگتا ہے بعض دفعہ۔وہ سنتے ہیں اور اس بات کا مزہ لیتے ہیں کہ ہمارا نام مشتہر ہوا کیسٹوں میں اور ساری دنیا میں وہ نام سنا گیا۔اور بعید نہیں کہ اگر اسی طرح جاری رہا تو بعض دلوں میں صرف اسی وجہ سے یہ خیال پیدا ہو یعنی تقویٰ کی بجائے دکھاوے کی خاطر کہ ہمارا نام بھی آئے کہ فلاں شخص کی نماز جنازہ پڑھائی گئی اور ہم اس کے عزیز تھے ، یہ تھے ، وہ تھے۔تو ہر نیکی کے ساتھ بعض خطرات بھی لاحق ہوتے ہیں اسے اگر آپ آنکھیں بند کر کے دوام دے دیں تو اس سے نقصانات کا خطرہ ہوتا ہے۔اس لئے ان باتوں کو بعض دفعہ بدل دینا چاہئے۔یعنی بعض اگر دوسرے خطرات نہ بھی ہوں تب بھی بعض سنت حسنہ بھی حضرت رسول اکرم علی وقتی طور پر ترک فرما دیا کرتے تھے کہ بوجھ نہ بن جائے دوسروں کے لئے۔مثلاً تہجد کی نماز با قاعدہ باجماعت پڑھاتے پڑھاتے آپ نے فیصلہ فرمایا کہ اب نہیں پڑھاؤں گا کیونکہ اس طرح سے عادت پڑ جائے گی لوگوں کو اور بوجھ بن جائے گا۔تو بوجھ بھی بن جاتا ہے بعض دفعہ ہر دفعہ نماز جنازہ جمعہ ہی کو ہورہی ہے۔اس لئے آئندہ سے یہ طریق رکھیں کہ جب بھی نماز جنازہ کی درخواست موصول ہو جو بھی دن ہے اس دن نماز جنازہ ہونی چاہئے۔ان کو اطلاع ہو جانی چاہئے ، اخبار میں چھپ جایا کرے زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ دعا کی تحریک اس طرح ہو جائے گی۔اور اگر کوئی ایسا غیر معمولی معاملہ ہے جسے خلیفہ وقت خود سمجھے کہ یہ ایسی قربانی والے وجود تھے، ایسے دیرینہ خدمت کرنے والے تھے کہ ان کا جمعہ میں ذکر ضروری ہے تو وہ خود فیصلہ کرے گا۔اس لئے پرائیویٹ