خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 569 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 569

خطبات طاہر جلد۵ 569 خطبه جمعه ۲۲ را گست ۱۹۸۶ء معرفت ، ہماری رحمت کے صدقے تمہیں یہ موقع مل گیا کہ کم سے کم احسان مندی کا اظہار تو کرو اور درود بھیجو۔اور خدا فرماتا ہے میں اسے قبول کروں گا، میں فضلوں کو اور بھی بڑھاؤں گا۔پس جب میں کہتا ہوں کہ بیرونی جماعتوں کی دعاؤں سے لازماً فائدہ پہنچ رہا ہے تو یہ مراد نہیں ہے کہ اگر یہ دعائیں نہ ہوتیں تو نعوذ باللہ پاکستان کی جماعت برباد ہو جاتی۔وہ تو خدا کا وعدہ ہے، قول ایسا ہے جو کسی قیمت پر بدل نہیں سکتا ممکن نہیں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو خواہ کسی ملک میں کوئی ابتلا پیش آئے اور خدا اسے چھوڑ دے۔اس لئے پاکستان کی جماعت نے بہر حال برومند اور فتح مند ہونا ہے۔ہاں آپ کی دعائیں ان کو پھر بھی لگتی ہیں اور ان دعاؤں کے نتیجہ میں مزید فضل ان پر نازل ہوتے ہیں۔پس ہندوستان کی جماعت کے لئے بھی اس عظیم دور میں جس جہاد کے دور میں داخل ہونے لگی ہے آپ کثرت سے دعائیں کریں اور یہ دعا کریں کہ اے خدا! پہلے بھی ہم کمزور تھے بظاہر آج کے مقابل پر طاقتور تو تھے مگر دشمن کے مقابل پر اتنے کمزور تھے کہ اگر تیر افضل اس وقت بھی نہ ہوتا تو تب بھی ہم لا زمانا کام ہو جاتے۔تو تیرے فضل کے مقابل پر یہ کمزوری اور طاقتوں کی نسبتیں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔آج بھی ہم کمزور ہی ہیں۔یہ تو انسان دیکھ رہا ہے کہ اس کی نسبت پہلے سے زیادہ کمزور ہیں مگر جہاں تک تیرے حصہ کی شمولیت کا تعلق ہے تیری مددکا، تیری نصرت کا حصہ جب شامل ہو جائے تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنا کمزور تھا اور کتنا طاقتور تھا۔وہ ہر کمی کو پورا کرنے والا حصہ بن جاتا ہے اور غلبے کی یقینی خوشخبری لے کر آتا ہے۔اس لئے میں ہندوستان کی جماعتوں کو یہ بھی یقین دلاتا ہوں کہ ہر گز خوف نہ کھائیں، ہرگز اپنی کمزوری پر نظر نہ رکھیں۔وہ قادر اور قدیر اور توانا خدا جس نے پہلے جماعت احمدیہ کے اس جہاد میں مدد فرمائی تھی آج بھی وہ مددفرمائے گا اور یقیناً آپ ہی فتح مند ثابت ہوں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔جائیں اور اس میدان میں سب کچھ جھونک دیں اور اسلام کا دفاع کریں کیونکہ جماعت احمدیہ کا قیام اسی غرض سے ہے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: حسب سابق آج بھی کچھ دوستوں کی اور کچھ خواتین کی نماز جنازہ غائب ہوگی جمعہ کے بعد اس سلسلہ میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پرائیویٹ سیکریٹری صاحب نے فرض سمجھ لیا ہے کہ ہر نماز جنازہ