خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 525
خطبات طاہر جلد۵ 525 خطبہ جمعہ ۲۵ / جولائی ۱۹۸۶ء کہ میرا کیس جو عدالت میں چل رہا ہے اس کے فیصلے کا دن قریب آ رہا ہے اور میں بہت پریشان ہوں اور ہم اپنے امام کو دعاؤں کے لئے خط لکھتے ہیں وہ ہمارے لئے دعائیں کرتے ہیں اللہ فضل فرماتا ہے۔اس لئے میں نے دنیا کی تدبیریں تو کر لیں اب میں یہ تدبیر بھی کر رہا ہوں۔اور دوسرے یا تیسرے دن ہی اس کیس کا فیصلہ ہوا تو ان کے حق میں ہو گیا اور اس عرب دوست نے متاثر ہوکر ان سے کہا کہ میرے لئے بھی دعا کے لئے خط لکھو۔چنانچہ انہوں نے مجھے یہ واقعہ لکھا اور اپنے عرب دوست کے لئے بھی دعا کے لئے خط لکھا اور کچھ دن کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کا کیس بھی منظور ہو گیا۔دنیا کی نظر میں تو یہ ایک اتفاقی واقعہ بھی ہو سکتا ہے لیکن دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کے قلب کے اطمینان کی خاطر یہ بھی کیا کہ جس دن پہلے احمدی دوست کو میرا جواب کا خط ملا ہے اسی دن ان کا کیس منظور ہوا اور جس دن اس عرب دوست کو میری طرف سے اطمینان کا پیغام ملا اسی دن ان کا کیس منظور ہوا۔جہاں تک ان دونوں کے دل کا تعلق ہے وہ تو اپنے رب سے بہت راضی ہوئے اور کامل طور پر ان کے دل اس یقین سے بھر گئے کہ آج دنیا کا ایک خدا ہے جو مضطر کی دعا کوسنتا ہے۔کبھی اس کی اپنی دعا کو اپنے لئے کبھی کسی اور منظر کی دعا کو ان کے لئے سن لیتا ہے۔یہ بات وہ کہتے ہیں جب مشہور ہوئی تو ایک اور غیر احمدی دوست نے اپنے پاکستانی احمدی دوست سے یہ درخواست کی کہ ہمارے خاندان کا ایک فرد ایک لمبے عرصہ سے بیمار چلا آ رہا ہے اور ڈاکٹروں کو کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ اس کی بیماری ہے کیا اور دن بدن پریشانی بڑھتی چلی جارہی ہے اس لئے میرے لئے بھی دعا کا لکھو۔چنانچہ انہوں نے ان باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے مجھے اس دوست کے لئے بھی دعا کے لئے لکھا۔اور اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور ایک دن ڈاکٹروں نے اس بیماری کی تشخیص کی اور دیکھتے دیکھتے وہ مریض شفا پا گیا اور اس میں بھی لطف کی بات یہ تھی کہ جب میرا خط ان کو ملا تو دعا کرنے کی تاریخ وہی تھی جس دن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان ڈاکٹروں کو صحیح تشخیص کی تو فیق عطا فرما دی۔ان واقعات کے اظہار سے میرا مقصد یہ نہیں کہ میں جماعت کو ایک ایسی پیر پرستی کی تعلیم دوں جس کو جماعت احمد یہ نہ صرف یہ کہ قبول نہیں کرتی بلکہ جس کے خلاف جہاد کی تعلیم دیتی ہے۔خلیفہ وقت کو جب دعا کے لئے خط لکھتے ہیں تو اول تو یہ ضروری نہیں کہ خلیفہ وقت کی ساری دعائیں