خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 526
خطبات طاہر جلد۵ 526 خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۸۶ء ضرور قبول ہوں۔دوسرے یہ کہ خلیفہ وقت کی ذاتی بزرگی سے زیادہ اس میں منصب خلافت کے اس وقار کا تعلق ہے جسے اللہ تعالیٰ دنیا میں قائم فرمانا چاہتا ہے اور اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ آپ اپنی دعاؤں کو، اپنے مسائل کو دعا کا خط لکھ کر خلیفہ وقت کی طرف منتقل کر دیں اور ذاتی طور پر دعا سے غافل ہو جائیں۔میر المبا تجر بہ مجھے بتاتا ہے کہ میری دعا کی قبولیت میں دعا کے لئے لکھنے والے کا خلوص اور اس کے ایمان کے معیار کا گہرا تعلق ہوتا ہے اور اس کی اپنی دعاؤں کا بھی بہت دخل ہوتا ہے۔اگر سچے خلوص اور پیار اور محبت کے ساتھ منصب خلافت سے وابستگی کے اظہار کے طور پر کوئی دعا کے لئے لکھتا ہے تو بسا اوقات اس کے حق میں غیر معمولی طور پر دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اگر اس معیار میں کمی پیدا ہو جائے یا کچھ اور عناصر ایسے داخل ہو جائیں جن کو خدا تعالیٰ پسند نہیں فرماتا تو پھر ایسے لوگوں کے حق میں دعاؤں کی قبولیت اس شان کے ساتھ ، اس وضاحت کے ساتھ جلوہ افروز نہیں ہوتی۔ایران سے ڈاکٹر فاطمہ زہرہ لکھتی ہیں کہ میرا اکلوتا بیٹا دائیں ٹانگ کی کمزوری کی وجہ سے بیمار ہوا اور دن بدن حالت بگڑنے لگی یہاں تک کہ وہ لنگڑا کے چلنے لگا اور ماہر امراض کو دکھایا گیا لیکن کوئی تشخیص نہ ہو سکی اور انہوں نے اس کی صحت سے متعلق مایوسی کا اظہار کیا۔وہ کہتی ہیں کہ مجھے اچانک دعا کا خیال آیا اور اس خیال کے ساتھ میں نے خود بھی دعا کی اور آپ کو بھی دعا کے لئے خط لکھا اور اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ وہ مریض جسے ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے دیا تھا اسی دن سے روبصحت ہونے لگا اور باوجود اس کے کہ ڈاکٹروں کو اس کی بیماری کی کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی اس لئے علاج سے بھی معذور تھے، بغیر علاج کے اس دن سے دیکھتے دیکھتے اس کی حالت بدلنے لگی اور اللہ تعالیٰ کے فضل۔اب وقت تحریر وہ بالکل صحیح ہے۔بنگلہ دیش کے امیر صاحب ایک دلچسپ واقعہ لکھتے ہیں۔کہتے ہیں ایک احمدی دوست کا چندہ بقایا تھا اور وہ غربت کی وجہ سے وہ ادا نہیں کر سکتے تھے لیکن احساس بہت تھا، سخت بے قرار تھے۔چنانچہ ایک دفعہ مجھے آکر انہوں نے یہ کہا کہ چندہ میرے سر پر ہے اور میں سخت بے قرار ہوں اور کوئی صورت نظر نہیں آتی اس کی ادائیگی کی۔ایک میرے پاس ناریل کا درخت ہے اور وہ سوکھ چکا ہے،اس کی وہ شاخیں جو پھل دیتی ہیں وہ مرجھا گئی ہیں اور میں نے آج یہ نیت کی ہے کہ اے خدا! اگر تو اس درخت کو زندہ کر دے تو جو بھی آمد ہوگی میں تیری جماعت کے سامنے چندے کے طور پر پیش کر دوں ނ