خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 524 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 524

خطبات طاہر جلد۵ 524 خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۸۶ء ہواور وہاں اللہ تعالیٰ قبولیت دعا کے ذریعہ اپنے قرب کے نشان ظاہر نہ فرمارہا ہو۔چند واقعات محض گنتی کے چند واقعات نمونہ کے طور پر آج میں نے چنے ہیں تا کہ آپ کو بتاؤں اور یقین دلاؤں کے قرآن کریم کی اس آیت کی رو سے آپ ہی ہیں جن کے ذریعہ انسان کی تقدیر بنائی جائے گی کیونکہ آپ کے اندر قبولیت دعا کے نشان پائے جاتے ہیں اور لامحدودنشان پائے جاتے ہیں۔دنیا کے کونے کونے میں جہاں جہاں بھی احمدی آباد ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ خدا تعالی براہ راست اس سے تعلق رکھتا ہے، کبھی اس کی دعائیں سنتا ہے کبھی اس کے لئے دعائیں سنتا ہے۔ڈھاکہ کے ایک احمدی دوست اپنے ایک زیر تبلیغ دوست کے متعلق جو احمدی نہیں یہ لکھتے ہیں کہ میں ان کو سلسلے کا لٹریچر بھی دیتا رہا اور ٹیسٹس بھی سنا تا رہا جس سے رفتہ رفتہ ان کا دل بدلنے لگا اور جماعت کے لٹریچر سے ان کو وابستگی پیدا ہوگئی اور وہ شوق سے مانگ کر پڑھنے لگے۔اس دوران ان کی آنکھوں کو ایک ایسی بیماری لاحق ہوگئی کہ ڈاکٹروں نے یہ کہہ دیا کہ تمہاری آنکھوں کا نور جاتا رہے گا اور جہاں تک دنیاوی علم کا تعلق ہے کوئی ذریعہ ہم نہیں پاتے کہ تمہاری آنکھوں کی بصارت کو بچاسکیں۔اس کا حال جب ان کے غیر احمدی دوستوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے طعن و تشنیع شروع کر دی اور یہ کہنے لگے کہ اور پڑھو احمدیت کی کتابیں، یہ احمدیت کی کتابیں پڑھ کر تمہاری آنکھوں میں جو جہنم داخل ہو رہی ہے اس نے تمہارے نور کو خاکستر کر دیا ہے۔یہ اسی کی سزا ہے جو تمہیں مل رہی ہے۔انہوں نے اس کا ذکر بڑی بے قراری سے اپنے دوست سے کیا۔انہوں نے کہا تم بالکل مطمئن رہو تم بھی دعائیں کرو میں بھی دعائیں کرتا ہوں اور اپنے امام کو بھی میں دعا کے لئے لکھتا ہوں اور پھر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح تم پر فضل نازل فرماتا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد چند دن کے اندراندران کی آنکھوں کی کایا پلٹنی شروع ہوئی اور دیکھتے دیکھتے سب نور واپس آ گیا۔جب دوسری مرتبہ وہ ڈاکٹر کو دکھانے گئے تو انہوں نے کہا اس خطر ناک بیماری کا کوئی بھی نشان میں باقی نہیں دیکھتا۔عبدالباسط صاحب مبلغ جرمنی لکھتے ہیں کہ نیورن برگ (Nurun Burg) میں ایک دلچسپ واقعہ ہوا۔ایک احمدی دوست مجھے (حضور کو لکھا ہے انہوں نے ) خط لکھ رہے تھے دعا کے لئے۔تو ایک عرب دوست نے پوچھا کہ آپ کیا کر رہے ہیں کس کو خط لکھ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا