خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 401
خطبات طاہر جلد۵ 401 خطبہ جمعہ ۶ جون ۱۹۸۶ء فرمائے۔اس توقع میں ایک معقولیت پائی جاتی ہے اور ہرگز بعید نہیں کہ ایسے نادم دلوں کی توبہ قبول ہو اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت کے ساتھ ان سے بخشش کا سلوک فرمائے۔لیکن جہاں تک اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کا تعلق ہے اس کی چونکہ حد کوئی نہیں اس لئے اس پر یہ پابندی بھی نہیں لگائی جاسکتی کہ سال میں ایک دفعہ بلکہ ساری عمر میں ایک دفعہ لبیک کہنے والے کو بھی وہ بخش نہیں سکتا۔اتنا بے پایاں اور بے کنار سمندر ہے اس کی رحمت کا کہ اس کا کوئی تصور ممکن نہیں ہے۔اس لئے اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ عقل یہ تسلیم نہیں کر سکتی کہ اکیاون مرتبہ کوئی شخص نافرمانی کرے اور ایک دفعہ خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہہ دے تو اسے بخشا جا سکتا ہے۔اس لئے انسان یہ فتویٰ بھی نہیں لگا سکتا۔بالعموم یہ نتیجہ تو ضرور نکالا جا سکتا ہے کہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے وفادار بندوں سے بھی وہی سلوک کرے جو بے وفاؤں سے کرے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ جو کان اطاعت کے عادی ہوں اور سمعا و طاعةً کی آواز بلند کرنے والے ہوں ان کے ساتھ وہی سلوک فرمائے جو بغاوت کے عادیوں سے فرمائے۔یہ ایک بالکل الگ مسئلہ ہے لیکن ساتھ یہ کہہ دینا کہ ایک دفعہ آنے والا بخشا نہیں جاسکتا یہ بھی غلط ہے اور یہ بھی خدا تعالیٰ کی رحمت پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔میرا تو ایمان ہے کہ سال میں ایک دفعہ چھوڑ کر اگر ساری زندگی میں ایک دفعہ ندامت کے دل کے ساتھ خدا کی آواز پر کوئی لبیک کہے اور پھر وفاداری اختیار کرے،اس ایک لبیک کے ساتھ بقیہ زندگی کی وفا کے وعدے شامل ہوں تو نہ صرف یہ کہ بعید نہیں بلکہ بھاری توقع اپنے رب کی رحمت پر یہی ہے کہ وہ اسے بخش دے گا، اس سے رحمت اور مغفرت کا سلوک فرمائے گا۔لیکن یہ دو انتہا ئیں ہیں۔ان کے درمیان جب عموماً ہم نظر ڈالتے ہیں تو قرآنی تعلیم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لئے بہتر یہی ہے۔اس کے لئے مقام محفوظ یہی ہے کہ ہر سانس اطاعت میں بسر کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ کوئی رات تم پر ایسی نہ گزرے جو تمہاری اطاعت پر گواہی نہ دینے والی ہو، کوئی دن غروب نہ ہو جو یہ گواہی دیتے ہوئے غروب نہ ہو کہ اس نے قرآن کریم کے احکام کی پابندی میں وقت بسر کیا۔ایک یہ بھی قرآن کریم پر نظر ڈالنے سے نتیجہ نکلتا ہے اور ایک یہ منظر بھی سامنے آتا ہے کہ خدا کے عارف بندے جو تقویٰ اور عبادت میں غیر معمولی مقام رکھنے والے ہیں۔جو انعام کے آخری