خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 400

خطبات طاہر جلد۵ 400 خطبہ جمعہ ۶ جون ۱۹۸۶ء الصلوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ ہاں جب نماز سے فارغ ہو جاؤ پھر دنیا میں بے شک پھیل جایا کرو۔وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللہ اور اللہ کے فضل کو چاہو۔وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ اور اللہ کو بہت کثرت سے یاد کیا کرو تا کہ تم نجات پاؤ۔یہ آواز باون مرتبہ ہر جمعہ کے دن اٹھتی ہے خواہ کوئی کان اس آواز کو سنے یا نہ سنے۔مگر وہ آواز جس کو قرآن کریم نے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا کا ئنات کا ریکارڈ نگ سسٹم اسے ہر دفعہ بجاتا ہے اور جن کے کان سننے کے ہیں وہ اس آواز کو سنتے ہی ہیں اور اس کے باوجودا سے ان سنی کرنے والے بھی بہت سے ہیں۔لیکن ایک جمعہ کا دن ایسا بھی آتا ہے جب کہ تمام سننے والے اس آواز کو سنتے بھی ہیں اور لبیک بھی کہتے ہیں اور وہ جمعہ کا دن آج کے جمعہ کا دن ہے جسے جمعۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ساری امت مسلمہ میں یہ دن بڑے خلوص اور بڑی عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے اور اس جمعہ کے دن کے ساتھ بہت سی توقعات وابستہ کی جاتی ہیں، کچھ فرضی ہیں کچھ حقیقی ہیں لیکن بہر حال بہت سی نیک امیدیں اور بلند تو قعات اس جمعہ کے دن کے ساتھ وابستہ کی جاتی ہیں۔یہاں تک کہ بعض سمجھنے والے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اکیاون دفعہ خدا کی آواز کو رد کرنے کے بعد اگر ایک دفعہ اس آواز پر لبیک کہہ کر ہم اس جمعہ کے دن حاضر ہو جائیں گے تو ہماری اکیاون نافرمانیاں بخشی جائیں گی اور اس ایک فرمانبرداری کو ان اکیاون نافرمانیوں پر بھاری قرار دیا جائے گا۔یہ بھی ایک توقع ہے۔کس حد تک اس توقع میں حقیقت ہے یہ تو عالم الغيب والشهادة خدا ہی بہتر جانتا ہے۔وہی بہتر جانتا ہے جس نے جزاء سزا کے دن ہمارے اعمال کا فیصلہ کرنا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جب ایک پکارنے والا ،جس کی اطاعت کا انسان عہد کر چکا ہو، جس کی اطاعت سے باہر کوئی چارہ نہ ہو، کسی کو اپنی اطاعت کی طرف بلاتا ہے تو بندے کا یہی کام ہے ، غلام کا یہی فرض ہے کہ وہ اس آواز پر لبیک کہے اور اگر کچھ مجبوریاں حائل ہو جائیں ، بے اختیاری اور بے بسی کی صورت پیدا ہو جائے تو پھر ان کوتاہیوں پرانسان نادم ہو اور استغفار کرے اور شرمندگی کا اظہار کرے تو ایک معقول توقع کی وجہ بن جاتی ہے۔انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ چونکہ بعض بے اختیاریاں اور بعض کمزوریاں میری اطاعت کی راہ میں حائل ہو گئی تھیں اور پھر اطاعت نہ کرنے پر شرمندگی بھی مجھے بہت ہوئی اور اظہار ندامت بھی میں نے کیا اس لئے بعید نہیں کہ وہ عالی سرکار ہمارا رب رحمان و رحیم مجھے بخش دے اور میری کمزوریوں سے درگزر