خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 402
خطبات طاہر جلد ۵ 402 خطبہ جمعہ ۶ جون ۱۹۸۶ء منازل تک پہنچنے کی سعادت پاگئے اور وہ انعام جو سب سے بالا انعام ہے خدا تعالیٰ نے ان کو نصیب فرمایا۔وہ تو ڈرتے ڈرتے راتیں بسر کرتے رہے اور ڈرتے ڈرتے دن بسر کرتے رہے۔ایک ایک لمحہ سے خائف رہے کہ کوئی ایک لمحہ بھی خدا کی اطاعت سے باہر نہ گزرے۔تو پھر یہ تصویر بھی ایک بہت ہی دلکش تصویر سامنے ابھرتی ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح زندگی بسر ہونی چاہئے۔پس جہاں کمزوروں اور گنہگاروں کا ایک منظر ہے اس میں بھی مایوسی کا کوئی سوال اس لحاظ سے نہیں کہ خدا کی رحمت سے بخشش بعید نہیں ہے۔لیکن جہاں تک تقوی کے اعلیٰ تقاضوں کا تعلق ہے، فرمانبرداری کے حقوق کا تعلق ہے، بندگی کے حقوق کا تعلق ہے، آقا اور غلام کے تعلقات کے آداب کا تعلق ہے، بہتر اور صحیح صورت حال وہی ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی کہ مومن کی راتیں بھی ڈرتے ڈرتے بسر ہونی چاہئیں اور اس کے دن بھی ڈرتے ڈرتے بسر ہونے چاہئیں اور کوشش یہی ہونی چاہئے کہ اطاعت سے باہر کوئی سانس نہ آئے اور اطاعت سے باہر کوئی قدم نہ جائے۔ان دو تصویروں کے درمیان بے انتہا خدا کی مخلوق ہے۔کوئی ایک کنارے پر کھڑی ہے کوئی دوسرے کنارے پر اور ہر ایک کے معاملات الگ الگ ہیں۔انسان نہ اس انسان کے دل کی تہہ تک اتر سکتا ہے نہ اس لائق ہے کہ وہ کسی پر فتویٰ لگا سکے، نہ اسے یہ توفیق ہے کہ خود اپنے ہی دل کا راز معلوم کر سکے اور بسا اوقات غفلت کی حالت میں بسر کرنے والا اپنے آپ کو نیک سمجھتے ہوئے بسر کر رہا ہوتا ہے حالانکہ اندرون خانہ اس کے اندر اس کی نیتوں کی کجیاں اور نیتوں کے فتور اس کے اعمال کو کھا رہے ہوتے ہیں۔تو ایک یہ پہلو بھی ہے جس کی وجہ سے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے اور انسان کو یہ پہلوانکساری سکھاتا ہے۔خدا ہی کے حضور جھکنا نہیں سکھاتا بلکہ بندوں کے مقابل پر بھی انکساری سکھاتا ہے۔پس آج کے دن سب قسم کے لوگ وہ جو تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنے والے ہیں وہ بھی خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اکٹھے ہو گئے ہیں اور وہ جن کو خدا کی رحمت پر امیدیں ہیں خواہ ان کے اعمال ان امیدوں کو جھٹلا بھی رہے ہوں تب بھی وہ اپنے رب کی رحمت سے بلند امید میں لے کر آج کے دن حاضر ہوئے ہیں، وہ بھی آج مسجدوں میں اکٹھے ہو گئے ہیں اور ان دونوں کے درمیان جو خدا کی بے شمار مخلوقات ہیں، بے شمار ان کے مدارج ہیں ، بے شمار مراتب ہیں وہ سارے