خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 389 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 389

خطبات طاہر جلد۵ 389 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء ”حدیث شریف میں آیا ہے کہ وہ دو آدمی بڑے بد قسمت ہیں ایک وہ جس نے رمضان پایا اور رمضان گزر گیا اور اس کے گناہ بخشے نہ گئے اور دوسرا وہ جس نے والدین کو پایا اور والدین گزر گئے اور اس کے گناہ بخشے نہ گئے أحجم الكبير جلد ۱۹ باب کعب بن عمره صفحه ۱۴۴۰) یہاں رمضان کا وہی مفہوم بیان کیا گیا ہے جو قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں میں نے بیان کیا تھا کہ ہر شخص کے لئے جہنم کے دروازے بند نہیں ہوتے۔مراد یہ ہے کہ جہنم کے دروازے بند ہونے کا ایک امکان پیدا ہو جاتا ہے اور بڑا ہی بدقسمت ہے وہ شخص جس کے لئے یہ امکان پیدا ہو کہ جہنم کے سب دروازے اس پر بند کر دیئے جائیں اور پھر بھی وہ ایسے اعمال بجانہ لا سکے جن کے نتیجہ میں وہ دروازے بند کئے جاتے ہیں۔یہ مضمون کہ جہنم کے سب دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں یہ سمجھنے کے لائق ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا رمضان کا تعلق یا روزہ کا تعلق حواس خمسہ سے ہے اور کوئی ایک بھی انسانی حواس نہیں ہے جو روزہ سے متاثر نہیں ہوتا اور ہر ایک کے اوپر لگام آجاتی ہے، ہر ایک انسانی تمنا کے اوپر ایک پابندی عائد ہو جاتی ہے۔اس لئے خالصہ سارے کا سارا انسان خدا کے حضور کچھ قربانی کر رہا ہوتا ہے چونکہ جہنم کے دروازے دراصل حواس خمسہ کے دروازے ہی ہیں۔جب حس آزاد ہوتی ہے اور گناہ کی مرتکب ہوتی ہے تو حس کے دروازہ سے انسان جہنم میں داخل ہوتا ہے۔جب مزہ آزاد ہوتا ہے اور ایسی چیز کی لذت حاصل کرتا ہے جو خدا نے اس پر حرام کر دی ہے تو مزہ کے دروازے سے انسان جہنم میں داخل ہو رہا ہوتا ہے۔اسی طرح نظر آزاد ہو جاتی ہے،اسی طرح زبان آزاد ہو جاتی ہے، اسی طرح کان آزاد ہو جاتے ہیں، اسی طرح دیگر حواس ہیں۔تو جہنم کے دروازوں سے مراد تو یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہاں کوئی گیٹ لگے ہوئے ہیں جو مادی لحاظ سے دروازے ہیں اور ان کو بند کیا جاتا ہے یا ان کو کھولا جاتا ہے۔مراد یہ ہے کہ انسانی حسیں ہی ہیں چونکہ پانچ حسیں انسان کی ایسی ہیں جن سے لذت یابی ممکن ہے خدا کی مرضی کے مطابق بھی اور خدا کی مرضی کو چھوڑ کر بھی۔گیٹ کرلیش (Crash) کر کے بھی انسان لذت حاصل کر سکتا ہے اور خدا کی رضا کے تابع رہ کر بھی لذت حاصل کر سکتا ہے۔