خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 388 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 388

خطبات طاہر جلد ۵ 388 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء طرف متوجہ ہوا اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والو! برائی سے باز آجاؤ۔اللہ بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرنے کا اعلان کرتا ہے اور ہر رات کو ایسا ہی ہوتا رہتا ہے جب تک کہ رمضان کی راتیں گزر نہ جائیں۔( بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر: ۱۷۶۶) یہاں جو یہ فرمایا گیا کہ دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اس سے مراد یہ تو نہیں ہے کہ دنیا میں کسی انسان پر بھی اس وقت اگر وہ مر جائے تو دوزخ حرام ہو جائے گی۔مراد یہ ہے کہ جو رمضان کو قبول کرتے ہیں اور یہ حذف ہے اس میں، جو لوگ رمضان کو قبول نہ کریں ان کے متعلق یہ سوچنا کہ دوزخ کے دروازے ان پر بند کر دیئے جائیں گے یہ بالکل بے معنی بات ہے بلکہ الٹ اثر ظاہر ہونا چاہئے۔جو رمضان سے گزر رہا ہو اور اس کے باوجو درمضان کے دوران اس پر دوزخ کے دروازے کھلے رہیں وہ بہت ہی بد قسمت انسان ہو گا۔( بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر : ۱۷۷۱) پھر آنحضور علیہ فرماتے ہیں اور یہ ابو ہریرہ کی روایت ہے صحیح بخاری میں کہ روزہ گناہوں کے لئے ڈھال ہے، نہ تو مخش کام کیا جائے اور نہ جہالت کی بات۔اگر کوئی شخص اس روزہ دار سے جھگڑے یا گالی دے تو روزہ دار اس سے کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں۔دوبارہ کہہ دے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ میں روزے سے ہوں۔روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔وہ کھانا پینا اور مرغوبات محض میرے لئے چھوڑتا ہے۔(اللہ فرماتا ہے یعنی آنحضرت علیہ کی زبان میں خدا کی طرف منسوب کر کے یہ بات کہی گئی ہے ) کہ وہ کھانا پینا اور مرغوبات نفس محض میرے لئے چھوڑتا ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا صلہ دیتا ہوں اور ہر نیکی پر دس گنا ثواب ملتا ہے۔( بخاری کتاب الصوم حدیث :۱۷۶۳) پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور یہ حضرت سہل سے روایت ہے یہ بھی صحیح بخاری سے لی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جنت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے۔قیامت کے دن اس دروازہ سے بجز روزہ داروں کے اور کوئی داخل نہ ہو سکے گا۔کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں اور ان کو آگے بلایا جائے گا اور اس دروازہ سے صرف انہی کو داخل ہونے کی دعوت دی جائے گی۔(بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر : ۱۷۶۳) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :