خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 390
خطبات طاہر جلد۵ 390 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء پس رمضان میں دروازے بند کرنے سے مراد یہ ہے کہ مومن اپنے اوپر یہ سارے دروازے بند کر لیتے ہیں جن رستوں سے ان کے جہنم میں جانے کا احتمال ہوتا ہے۔اور بڑا ہی بد قسمت انسان ہے وہ جس کو خدا تعالیٰ نے یہ موقع مہیا فرمایا ہو کہ اس کے سارے دروازے خدا کی رضا کی خاطر بند ہو جائیں یعنی جہنم میں جانے والے اور پھر بھی وہ زبردستی گیٹ توڑ کر جہنم میں داخل ہو جائے۔اب کھانا پینا جائز ہے اور یہ دروازہ ایسا ہے اگر حدود کے اندر رہ کر انسان کھائے اور بیٹے اور جو جائز چیزیں ہیں صرف ان سے لذت یابی کرے تو یہ جہنم کا دروازہ نہیں بنتا۔مگر رمضان کے دنوں میں جب روزہ شروع ہوتا ہے اس وقت سے لے کر جب روزہ ختم ہوتا ہے اس وقت تک یہ دروازہ خدا نے بند کر دیا اور ساری حلال چیزیں بھی اس وقت حرام ہو جاتی ہیں۔تو جو اس دوران گیٹ تو ڑتا ہے اور بے وجہ ان لذتوں کے حصول کی کوشش کرتا ہے جو خدا نے عام حالات میں جائز رکھیں مگر بعض خاص حالات میں حرام کر دیں اس کی زندگی کے سارے کھانے عملاً حرام ہو جاتے ہیں اور اس طرف لوگ بہت کم توجہ کرتے ہیں گویا وہ ساری زندگی جو کھاتا رہا اس نے ثابت کیا کہ میں حلال کی وجہ سے نہیں کھا رہا تھا ، میں نے تو کھانا ہی کھانا تھا۔خدا نے جب حرام کر دیا تب بھی میں نے کھا کر دکھایا ہے تب ، میں کونسا رک گیا ہوں۔اس لئے یہ دروازہ واقعہ جہنم کے دروازہ بن جاتا ہے۔اس کی ساری عمر کے کھانے اس کی ساری عمر کے مشروبات اور لذت یابی جو منہ کے رستے حاصل کرتا رہا ہے وہ ساری حرام کے زمرہ میں داخل ہو جاتی ہے۔تو روزہ ترک کرنا ایک بہت ہی بڑا گناہ ہے اور بہت ہی خطرناک کمزوری ہے جو انسان دکھاتا ہے چند دن کی تکلیف سے بچنے کے لئے۔اس سلسلہ میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جماعت احمد یہ چونکہ بہت زیادہ غلو سے بچنے کی کوشش کرتی رہی ہے ہر میدان میں، اس لئے یہاں غلو سے بچتے بیچتے اصل معیار سے بھی گر گئی۔بعض علاقے ہیں مثلاً صوبہ سرحد میں پٹھانوں کے علاقے ہیں وہاں تو اتنا زیادہ زور دیا جاتا ہے روزہ پر کہ جن پر خدا نے فرض نہیں کیا ان پر بھی فرض کر دیتے ہیں اور بعض دفعہ زبر دستی روزہ رکھواتے رکھواتے گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں ، یعنی یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ بعض مسافر جو بے ہوش ہو جائیں ان کے منہ میں پانی نہیں ڈالتے جب تک پہلے مٹی ڈال کر نہ دیکھیں۔اگر مٹی خشک نکل آئے تو کہتے ہیں اب اس کو پانی دیا جا سکتا ہے اور اگر مٹی میں ذرا بھی تراوت آ جائے تو سمجھتے ہیں کہ ابھی موقع