خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 387
خطبات طاہر جلد۵ 387 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء نہیں رکھتے یعنی رمضان گزرنے کے بعد بھی وہ روزہ نہیں رکھ سکیں گے اور مستقل مجبور ہیں یعنی ساری زندگی پھر وہ روزہ رکھ ہی نہیں سکتے۔ایسے دائم المریض بھی ہوتے ہیں۔وَعَلَى الَّذِيْنَ کا معنی ہے ان پر فرض ہے کہ وہ ضرور فدیہ دیں اور روزہ نہیں رکھ سکتے تو لازماً اس کے بدلہ فدیہ کے طور پر دیں۔دوسرا معنی ہے وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَ، اور وہ لوگ جو روزہ کی طاقت رکھتے ہیں ان معنوں میں کہ مسافر ہیں ویسے طاقت موجود ہے مگر اللہ نے رخصت دی ہے۔مریض ہیں مگر عارضی مریض ہیں کل کو خدا تعالیٰ صحت عطا فرمائے تو پھر وہ روزے رکھ سکتے ہیں یا اتنے مریض نہیں ہیں کہ روزہ رکھیں تو جان نکل جائے گی ، کچھ نہ کچھ طاقت ضرور رکھتے ہیں۔اور چونکہ یہ دونوں بعد میں روزے رکھ سکتے ہیں تو ان کے متعلق فرمایا ان کا فدیہ دینا فَمَنْ تَطَوَّعَ کے تابع ہوگا۔چونکہ روزہ بعد میں رکھ لیں گے اس لئے فدیہ ان کا نفلی کام بن جائے گا۔اگر وہ نفلاً فدیہ دیں تو ان کے لئے بہت بہتر ہے کہ فدیہ بھی دیں رمضان کے دوران اور روزہ بھی رکھیں رمضان کے بعد جب بھی خدا توفیق دے۔یہ بہتر اس لئے بن جاتا ہے کہ زندگی کا اعتبار کوئی نہیں جو شخص عارضی مریض ہے یا مسافر ہے اگر روزہ کی تمنا رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ فرض اس کے سر سے اتر جائے یا ویسے روزہ سے محبت رکھتا ہے اور چاہتا ہے لیکن مجبور ہے۔اس کو چونکہ یقین نہیں ہوسکتا کہ وہ روزوں کے بعد بھی زندہ رہے گا اور اس کو توفیق بھی ملے گی روزے رکھنے کی تو اگر وہ نفلی طور پر احتیاطاً روزہ کا حق فدیہ کے طور پر ادا کر دے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے تا کہ خدانخواستہ اگر بعد میں اس کی روزہ رکھنے سے پہلے وفات بھی ہو جائے تو کچھ نہ کچھ وہ روزہ کا حق ادا کر کے دنیا سے رخصت ہو رہا ہوگا۔اس سے روزہ کے مضمون میں اور زیادہ اہمیت آجاتی ہے اور خدا تعالیٰ کا منشاء معلوم ہوتا ہے کہ وہ پسند فرماتا ہے کہ جس قدر جلد ہو سکے بندے اس فریضہ کو ادا کر دیں اور میرے حضور بری الذمہ ہو جائیں۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطان اور سرکش جن قید کر دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہے اور کھولا نہیں جاتا۔دوزخ کا کوئی دروازہ بھی کھلا نہیں رہنے دیا جاتا اور جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور کوئی دروازہ بند نہیں رہنے دیا جاتا اور ایک اعلان کرنے والا یہ اعلان کرتا ہے کہ اے نیکی کے طلب گارو! نیکی کی