خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 377 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 377

خطبات طاہر جلد۵ 377 خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء صحنوں میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ ضعیف اور کمزور لوگ اور یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ عبادت کے میدان میں ہم نے کوئی شکست نہیں کھانی۔جان اس راہ میں جاتی ہے تو بے شک جائے ، اموال لوٹے جاتے ہیں تو بے شک لوٹے جائیں ، ہم ذبح ہوتے ہیں اپنی بیوی بچوں کے سامنے تو بے شک ذبح ہوں، ہمارے بیوی بچے ہمارے سامنے ذبح ہوتے ہیں تو بے شک ذبح ہوں، ہماری عزتیں لوٹی جاتی ہیں تو لوٹی جائیں مگر خدا کی قسم ہم عبادت کی راہ سے ہرگز پیچھے قدم نہیں ہٹا ئیں گے۔کسی قیمت پر اس میدان میں دشمن ہماری پیٹھ نہیں دیکھے گا۔اور کس طرح تاریخ دہرائی جاتی ہے؟ اے صاحب بصیرت لوگو! دیکھو کہ پاکستان میں اسلام کی تاریخ دوبارہ زندہ کی جارہی ہے اور کمزوروں اور نہتوں اور بے بسوں کے ذریعہ زندہ کی جار ہی ہے۔آج کوئٹہ اس نظارے کو پھر دیکھ رہا ہے کہ چند نہایت ہی کمزور چند سوانسان ہیں بوڑھے بھی ہیں، بچے بھی ہیں، نہتے ہیں، بے جان ہیں، بے بس ہیں۔ایسے بھی ہیں جن سے دو قدم صحیح طریق پر چلا بھی نہیں جاتا ، اپنی جان، مال، عزتیں لے کر خدا کے حضور حاضر ہو گئے ہیں کہ اے خدا تیری عبادت سے ہم نے پیچھے نہیں ہٹنا۔تو کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو چھوڑ دے گا ؟ محمد مصطفی ﷺ کا خدا عبادت گزار بندوں کو کبھی نہتا نہیں چھوڑ سکتا۔وہ قوی اور عزیز تھا اور قومی اور عزیز ہے اور ہمیشہ قوی اور عزیز رہے گا اور ناممکن ہے کہ اس کے عبادت گزار بندے عبادت کے میدانوں میں شکست کھا جائیں اور خدا ان کو چھوڑ دے۔پس جب میں آپ کو عبادت کے میدانوں کی طرف بلاتا ہوں تو ایک حقیقت کی طرف بلاتا ہوں۔یہ کوئی فرضی مدد نہیں ہے یہی نصرت ہے اسلام کی جو آج آپ کر سکتے ہیں۔اس کے اور بھی کئی نظارے ہمیں تاریخ اسلام میں ملتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے اگر آپ غور کی نظر سے ان تاریخی واقعات کو پڑھیں کہ در اصل تمام مسلمانوں کی فتوحات کا مرکزی نکتہ ان کی عبادت تھی۔غزوہ احزاب میں ایک واقعہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ اتنے مصروف رہے ایک دن که تمام دن دشمن ان پر حملہ کرتا رہا۔اتنی بھی فرصت نہیں ملی ان کو کہ کوئی نماز پڑھ سکیں یعنی جنگ کی حالت میں جورعایتیں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہوئی تھیں ان کو ملحوظ رکھتے ہوئے بھی نماز پڑھنے کے