خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 376
خطبات طاہر جلد۵ 376 خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء بلکہ پیچھے ایک خیمہ میں جہاد کر رہے تھے اور عبادت کر رہے تھے اور واقعہ یہ ہے کہ اگر وہ اس خیمہ میں حضرت ﷺ عبادت نہ کر رہے ہوتے تو ناممکن تھا کہ اس طاقتور دشمن کے اوپر وہ چند مسلمان فتح یاب ہو جاتے جو ہر لحاظ سے ان کے مقابل پر کمزور تھے۔پس بظاہر ایک دنیا کا مؤرخ یہ سوچنے کی کوشش کرتا ہے کہ جنگ بدر کا فیصلہ میدان جنگ میں ہوا تھا جہاں چند مسلمان کچھ نیم مسلح کچھ مسلح بہت بڑے طاقتور دشمن کے مقابلہ پر صف آرا تھے اور جب وہ یہ سوچنے کی کوشش کرتا ہے تو حیران بھی بہت ہوتا ہے اور حیران ہونے کے سوا اس کے لئے چارہ کوئی نہیں کیونکہ دنیا کے جتنے بھی فیصلہ کن عوامل ہوتے ہیں ان میں سے ایک بھی اس کو مسلمانوں کے حق میں نہیں ملتا۔ایک وجہ بھی وہ نہیں پاتا کہ کیوں مسلمان جیت سکے۔اس لئے سب سے زیادہ حیرت سے مستشرقین جنگ بدر اور اس کے نتائج کو دیکھتے ہیں کہ کیا واقعہ ہوا، کیوں آخر کیا پاگل ہو گیا تھا دشمن ، اس پہ کیا بنی، کیا بیتی ؟ کیوں اتنی زبر دست اور ذلت آمیز شکست اس نے چند نہایت کمزور دکھائی دینے والے لوگوں کے ہاتھوں کھائی؟ اس لئے کہ وہ نہیں جانتا کہ جنگ وہاں لڑی ہی نہیں جا رہی تھی ، جنگ تو اس خیمہ میں لڑی جا رہی تھی جہاں میرے آقا و مولی ، ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی امیہ عبادت میں مصروف تھے اور اس قدرگر یہ وزاری تھی اس قدر بکا تھی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو خدمت میں حاضر تھے بار بار گرتی ہوئی چادر کو واپس آپ کے کندھوں پر ڈالتے تھے اور بے اختیار درد سے دعائیں دیتے صلى الله تھے کہ کیا ہو گیا ہے یا رسول اللہ ﷺ آپ کو؟ کیوں اپنے آپ کو اس طرح غم میں ہلاک کئے چلے جا رہے ہیں؟ اور آپ کی دعا کا خلاصہ یہ تھا کہ اے خدا! اگر آج اس میدان میں دشمن کو فتح ہوئی اور میرے غلاموں کو شکست ہوئی تو پھر قیامت تک تیری عبادت کرنے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔(مسلم کتاب الجھاد باب الامداد بالملائکہ فی غزوہ بدرحدیث نمبر : ۳۳۰۹) آج یہی مضمون ہے جہاد کا جو پاکستان میں جاری وساری ہے۔آج چند کمزور اور نہتے اور بے بس اور عام دنیاوی طاقتوں سے عاری لوگ محض عبادت کی خاطر اپنا سب کچھ ، اپنا تن من لے کر خدا کے حضور حاضر ہو چکے ہیں۔اپنی بیوی بچوں، اپنی عزتوں ، اپنی جان اور مال کی قربانی لے کر وہ اس میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔اگر ان سے مسجدیں چھینی جا رہی ہیں تو مسجدوں کے باہر