خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 370
خطبات طاہر جلد۵ 370 خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء کا ذکر بھی ملتا ہے لیکن یہاں سوائے اللہ اور سول کے کسی اور کا ذکر نہیں۔كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَ اَنَا وَ رُسُلِی میں غالب آؤں گا اور میرے رسول غالب آئیں گے۔دراصل اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جہاں تک مومنوں کی جماعت کا تعلق ہے ان کی عددی حیثیت اس فیصلہ کن جہاد میں کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی ، وہ ہزار ہوں یا لا کھ ہوں یا دس لاکھ ہوں یہ بے معنی ہے کیونکہ ان کے مقابل پر جو عددی اکثریت ہے وہ اس سے بہت ہی زیادہ ہے۔ان کے مقابل پر جو مالی غلبہ ہے اس کو ان کی مالی حیثیت سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے، بہت ہی زیادہ ہے۔ان کے مقابل پر جو ہتھیاروں کا غلبہ ہے وہ بھی ہر نسبت میں ان سے بہت زیادہ ہے اس لئے ان کو کسی پلڑے میں ڈالنے کے کوئی معنی نہیں رہ جاتے۔وہ جتنے بھی ہوں تب بھی اگر خدا کی مدد ساتھ نہ ہو تولا ز ما شکست ان کے حصہ میں لکھی جائے گی۔اللہ کا غلبہ ہے صرف اور رسول کا اس لئے کہ رسالت میں نیکیوں کا خلاصہ اکٹھا ہو گیا۔مراد یہ ہے کہ خدا اور بندے جو اس کی خاطر نیکیاں کرتے ہیں ان کو غلبہ نصیب ہوگا اور رسول کا مضمون انسانی نیکیوں کے خلاصے کے طور پر بیان فرمایا گیا ہے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جن کو بھیجتا ہے ان کے لئے غیرت دکھاتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ جہاں تک غلبہ کا تعلق ہے اگر ایک بھی شخص کسی رسول پر ایمان نہ لائے تب بھی لا زمآ یہ بات پوری ہو کر رہے گی اور رسول در حقیقت اپنے ایمان لانے والوں کا بھی غلبہ میں محتاج نہیں ہے۔ایک شخص بھی اگر اس پر ایمان نہ لائے تب بھی خدالا از ما اس کو غالب کرے گا یہ مضمون ہے کیونکہ وہ نیکیاں جن کو خدا پیار سے دیکھتا ہے رسول ان کا مجموعہ ہے۔وہ ساری کائنات کے جواہر کا خلاصہ ہے۔دوسرے یہ کہ خدا نے اس کو بھیجا ہے اور اس کی غیرت ہے جو خدا الا ز م دکھائے گا۔اس لئے ہم سب تو طفیلی ہو جاتے ہیں انبیا میھم السلام کے۔خدا نے اور خدا کے رسول نے بہر حال غالب آنا ہے اور یہ بات ثابت کر کے دکھانی ہے اِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ یقین اللہ ہی ہے جو طاقت رکھتا ہے اور عزیز ہے۔اسی طرح اس مضمون کی دیگر آیات بھی یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو غلبہ عطا ہوا ہے وہ رسالت کی تائید میں غلبہ عطا ہوا ہے اور یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ خدا ہی طاقتور ہے، اس کے خلاف ، اس کے علاوہ جتنے طاقت کی دعویٰ کرنے والے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔