خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 371 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 371

خطبات طاہر جلد۵ 371 خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے خدا تعالیٰ مومنوں کا بھی ذکر فرمانا شروع کر دیتا ہے اور جہاں مومنوں کا ذکر فرماتا ہے اس کی حکمت بھی بیان فرما دیتا ہے۔جہاں تک غلبہ کے فیصلہ کا تعلق ہے اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ مومن موجود بھی ہیں کہ نہیں لیکن اس کے باوجود مومنوں کا ذکر بھی چل پڑتا ہے، ان کی باتیں بھی خدا تعالیٰ شروع کر دیتا ہے اور حکمت یہ بیان فرماتا ہے: وَلِيَعْلَمَ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزُةً (الحدید: ۲۲) کہ خدا تعالیٰ مومنوں کو جو موقعہ دیتا ہے دین کی خدمت کا وہ صرف اس غرض سے کہ وہ بھی یہ فیض پالیس اور جوغلبہ بہر حال مقدر ہے اس میں کچھ وہ بھی ہاتھ لگا لیں اور اس سے برکتیں حاصل کر لیں۔اس کے نتیجے میں ان کو ثواب ملنا شروع ہو، اس کے نتیجہ میں اللہ کی رضا ان کو حاصل ہو۔اللہ پہچان لے کہ وہ کون ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی غیب سے مد کرتا ہے۔إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ جہاں تک خدا تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے وہ مرد کی محتاج نہیں ہے قَوِيٌّ عَزِيزُ وہی قوی ہے، وہی غالب ہے، اس سے تمہیں مدد پہنچے گی۔اس لئے تمہیں جو آزمائش میں ڈالا جاتا ہے یا تمہیں جو مدد کے لئے پکارا جاتا ہے مَنْ اَنْصَارِی اِلَى اللهِ (القف: ۱۵) کی آواز اٹھتی ہے تو مقصد یہ ہے کہ اس سے تم بھی فیض پالو اور تمہیں بھی کچھ برکتیں نصیب ہو جائیں۔جیسے چلتی گاڑی کو دھکالگا دیتا ہے کوئی اور اس وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ میرے دھکے سے یہ گاڑی چلی تھی حالانکہ انجن چل پڑا ہوتا ہے، جوخرابی تھی وہ دور ہو چکی ہوتی ہے۔اسی طرح ماں باپ بچوں سے کھیلتے ہیں۔خود کام کرتے ہیں اور بچوں کا ہاتھ لگا کر ان کو خوشی پہنچاتے ہیں۔تو مومنوں کا جہاد میں حصہ لینا اس سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ میں ایک اور لطیف مضمون بیان ہوا۔یہ نہیں فرمایا کہ وَلِيَعْلَمَ اللهُ مَنْ يَّنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بلکہ بِالْغَيْبِ فرما دیا۔اس سے مومن کے جہاد کی ایک نہایت ہی حسین ادا کی طرف اشارہ ہے۔مومن جو خدا کے رستہ میں جہاد کرتا ہے اس میں غیب کا مضمون دوطرح سے داخل ہوتا ہے۔اول یہ کہ باوجود اس کے کہ غلبہ کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔بظاہر مومن جانتا ہے کہ ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نکتا ہوا نظر نہیں آسکتا، دشمن اتنا طاقتور ہے، ہمارے مقابل پر اس کو اتنی