خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 320 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 320

خطبات طاہر جلد۵ 320 خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۸۶ء ہے لیکن حسد کا حملہ مومنوں کی جماعت کے اندر ہر طرف سے ان کے گھروں میں ان کی گلیوں میں ان کے آپس کے تعلقات کے ہر دائرہ میں شیطان کی طرف سے ہو رہا ہوتا ہے اور بسا اوقات انسان اس سے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔اس لئے جو دوسرا پہلو ہے حسد کے حملوں کا جماعتی تربیت کے لئے ضروری ہے کہ اس کی طرف بھی جماعت کو بار بار متوجہ کیا جائے۔میں نے تقریباً تین سال پہلے ایک خطبہ میں اسی مضمون کی طرف جماعت کو متوجہ کیا تھا۔آج پھر فَذَكِّرْ اِن نَفَعَتِ الذِّكْرى ( الاعلی :۱۰) کی ہدایت کے تابع اس مضمون کو چھیڑا ہے۔جہاں تک غیروں کے حسد کا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ کا آپ سے وعدہ ہے کہ ان کے شر سے وہ آپ کو محفوظ رکھے گا جہاں تک غیروں کے حسد کا تعلق ہے اللہ تعالی کا آپ سے وعدہ ہے کہ ان کے حسد کے باوجودخدا تعالیٰ آپ پر مزید فضل نازل فرماتا چلا جائے گالیکن حسد کرنے والی سوسائٹی سے اللہ کا کوئی وعدہ نہیں، حسد کرنے والے دلوں سے اللہ کا کوئی وعدہ نہیں۔پس اگر حسد کے جذبات مخفی طور پر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ ایک مخفی جذبہ ہے اور ایسا ظالم ہے جو شیطان کی صفت کے مطابق چھپ کر حملہ کرتا ہے۔اسی لئے بہت کم اس کا ذکر لفظ حسد کے ساتھ ملتا ہے۔اس کے مظاہر کا ذکر بکثرت قرآن کریم میں موجود ہے۔اس لئے حسد کے خلاف بار بار متنبہ کرنے کی ضرورت ہے اور کس طرح یہ بھیس بدل کر داخل ہوتا ہے یہ سمجھانے کی ضرورت ہے اور یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اگر آپ نے حسد کے خلاف اپنے دلوں کی اور اپنے گھروں کی حفاظت نہ کی تو حسد کی بیماری کا آخری نتیجہ انکار پر منتج ہوا کرتا ہے۔حسد کے نتیجہ میں پھر وہ حرکتیں شروع ہو جاتی ہیں جو غیروں کی حرکتیں قرآن کریم نے کھول کر آپ کے سامنے بیان فرمائی ہیں۔پھر وہ سوسائٹی جو حسد کی شکار ہو جاتی ہے بالاخر انہی لوگوں میں سے خدا کے منکرین ، اس کے پیاروں کے منکرین نیک بندوں کی مخالفت کرنے والے پیدا ہونے لگ جاتے ہیں اس لئے یہ ایک بہت ہی خطرناک زہر ہے جس کے خلاف ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے ، ہر طرح سے اپنی سوسائٹی کو اس بدزہر کے اثر سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے اور میں تو دیکھتا ہوں کہ بہت سی نیکیوں کے بھیس میں حسد کا جذبہ کارفرما دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔گھروں کے معاملات میں ، بہو اور ساس کے معاملات میں ، بھائی بہنوں کے معاملات میں، خاوند بیوی کے معاملات میں ، ایک خاندان کے دوسرے خاندان سے تعلقات کے معاملات میں ،