خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 321 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 321

خطبات طاہر جلد۵ 321 خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۸۶ء تجارتوں میں ، نوکریوں میں کونسا زندگی کا شعبہ ہے جہاں آپ کو بہت سی بدیوں کے پیچھے چھپا ہوا کمین گاہوں میں مخفی حسد نظر نہ آئے۔جماعت کے معاملات میں اب نیکیوں پر بھی حسد حملہ کر رہا ہوتا ہے اور نیکی کے لباس میں حسد حملہ کر رہا ہوتا ہے۔بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ چندوں کی تو فیق عطا فرما تا ہے، بڑی کثرت سے مالی قربانی کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں بعض دوسرے لوگ دعائیں کرتے ہیں انکسار کے ساتھ خدا کے حضور جھکتے ہیں کہ اے خدا! ہماری بھی تمنائیں پوری کر ہمیں بھی قربانی کی توفیق عطا فرما اور بعض دوسرے دوست انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں کہ ان کی کوئی برائی پکڑی جائے تو ہم پھر حملہ کریں۔ہم بتائیں کہ اچھا یہ مالی قربانی والے اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور پھر یہ کہیں کہ جماعت تو بس اموال کی حرص میں مبتلا ہے۔جو مالی قربانی کر دے وہ نیکی سمجھی جاتی ہے اور دوسری چیزوں کی طرف پرواہ ہی کوئی نہیں ، نظر ہی کوئی نہیں باقی باتوں کی طرف۔اب یہ دور د عمل کتنے مختلف ہیں۔ایک حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ کا رد عمل ہے اور ایک تقویٰ کا رد عمل ہے۔حسد سے خالی، رشک کا نیکیوں کے حصول کی تمنا کا رد عمل ہے۔چنانچہ اکثر تنقید جس کو آپ تخریبی تنقید کہتے ہیں جب آپ اُس کی چھان بین کریں اُس کا تجزیہ کریں تو اُس کی جڑیں آپ کو ہمیشہ حسد میں دکھائی دیں گی۔اگر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے مالی قربانی کی توفیق دی ہے تو جن کے پاس وہ توفیق نہیں ، جن کو وہ تو فیق نصیب نہیں اُن کے لئے اگر وہ تقویٰ رکھتے ہوں تو سوائے اس کے کوئی راہ نہیں کہ اللہ سے یہ دعا مانگیں کہ اللہ ان کو بھی توفیق عطا فرمائے اور اُن کے لئے دعا مانگے کہ اللہ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے۔لیکن حاسد آدمی یہ رد عمل نہیں دکھاتا۔وہ اُس سے بھی جلتا ہے اور اُن لوگوں سے بھی جلتا ہے جو ان قربانیوں کے نتیجہ میں اُن سے محبت کرنے لگتے ہیں، اُن سے حسن سلوک کرتے ہیں اور اُس کی تمنا اُس کو بُرادیکھنا ہوتی ہے۔حسد کرنے والا کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتا، کسی کو اچھا نہیں دیکھ سکتا۔یہ اس کی بنیادی صفت ہے جو ہر حسد میں آپ کو نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔کسی کو بھلائی پہنچے تو یہاں تکلیف ہو جاتی ہے، کسی کو تکلیف پہنچے تو یہاں خوشی بن جاتی ہے۔تو جب مضمون بالکل برعکس ہو جائے۔ایک طرف اونچا ہے تو دوسری طرف نیچا ہو جائے ، ایک طرف نیچا ہے تو دوسری طرف اونچا ہو جائے، یہ کرشمہ حسد دکھایا کرتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ بعض سلسلہ کے کارکنوں کو خدمت کی توفیق بخشتا ہے۔اُس کے نتیجے میں وہ